
مضمون نگار جاپان میں مسلم لیگ نواز کے مرکزی صدر ہونے کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ نون کے جنرل سیکرٹری آف انٹرنیشنل آفئیر بھی ہیں
آمریت کی تاریک رات میں نواز شریف نے حق و یقین کی جو شمع روشن کی تھی اور جس کی روشنی سے ہی پورا پاکستان منور ہو گیا تھا، پاکستان کے عوام نے اسی یقین کے سہارے اپنی منزل کی جانب اس قافلہ حق کو رواں دواں رکھا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ١٨ فروری کو وہ روشن سحر نمودار ہوئی جس کا انتظار عوام گزشتہ نو سالوں سے کر رہے تھے ۔ ١٨ فروری کو عوام نے اپنے ووٹ کے زریعہ سے ثابت کر دیا کہ میاں نواز شریف کی پالیسیاں اور ملک کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سچائی پر مبنی تھے اور ١٩٩٩ میں جمہوری حکومت پر جو شبِ خون پرویز مشرف نے مارا گیا تھا وہ پاکستانی عوام اور ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کے لئے ایک چیلنج بن گیا تھا۔
١٨ فروری کو نامساعد حالات کے باوجود جس طرح مسلم لیگ نواز نے قدم بڑھائے اور قوم نے نواز شریف کے ہر قدم پر لبیک کہا اس کی مثال نہیں ملتی کیونکہ گزشتہ نو سالوں سے عوام جس گھٹن زدہ ماحول اور طلم کی چکی میں پِس رہے تھے اس کا انتقام عوام نے اپنے ووٹ کے زریعہ سے لے لیا۔نواز شریف کی آمد ان کی زندگی میں بادِ نسیم کے جھونکے کی مانند ثابت ہوئی ۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جو ظلم و ستم اور قیدو بند کی صعوبتیں نواز شریف نے عوام کی خاطر جھیلیں ، کسی اور وزیراعظم نے یہ تکالیف نہیں اٹھائیں۔پرویز مشرف کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نواز شریف کو بندوقوں اور سنگینوں کے سائے میں قیدِ تنہائی دے دی گئی ، پرویز مشرف اور ان کے حواری تو یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ نواز شریف کو بھی ذولفقار علی بھٹو کی طرح پھانسی دے دینگے ۔مگر مارنے والے سے بچانے والا قدرت رکھتا ہے ، اللہ کسی بے قصور کو سزا نہیں دیتا ، نواز شریف کی قید اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا اور نواز شریف اس امتحان میں کامیاب ہوئے ، اللہ نے اس امتحان کا صلہ انہیں اپنے حرم میں بلا کر دیا اور یوں نواز شریف اللہ کے گھر میں مہمان بنے۔ آج پرویز مشرف ہر تقریر میں یہ حوالہ دیتے ہیں کہ میں نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا ، مگر شاید وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ نعرہ بھی اس وقت لگایا تھا جب نواز شریف وزیراعظم اور پرویز مشرف نواز شریف کی کرم نوازی سے چیف آف آرمی سٹاف بنائے گئے تھے۔
پرویز مشرف آرمی چیف کس کے کہنے پر بنایا گیا یہ ایک طویک داستان ہے ، زندگی باقی رہی تو اس راز سے بھی کبھی پردہ اٹھاؤں گا کیونکہ یہ داستان کافی پرلطف ہے اس وقت پرویز مشرف نواز شریف کو اپنا بڑا بھائی اور میاں صاحب قبلہ کو والد کہتے تھے ۔ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ پرویز مشرف جس کو اپنا باپ کہتے تھے جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے لخت جگر کو وطن آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔پرویز مشرف نے جو ستم کیا وہ تو ایک کھلا باب ہے مگر افسوس ان لوگوں پر بھی ہے جو ہمیشہ نواز شریف کے دسترخوان سے ٹکڑے توڑتے رہے مگر جب قربانی کا وقت آیا تو ایک آمر اور غاصب کی گود میں جا بیٹھے۔
نواز شریف کی آمد کے بعد بھی حکمرانوں نے ان کی راہ میں کانٹے بچھا دئے مگر قدرت کو جو منظور ہو وہ ہو کر رہتا ہے ۔ آج پاکستانی قوم نے مسلم لیگ ن کو کامیابی سے ہمکنار کر کے نواز شریف کے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہے اور وہ لوگ جو نواز شریف اور شہباز شریف کے لئے کہا کرتے تھے کہ شریف برادران کبھی واپس نہیں آئیں گے ان سب کی حالت قابلِ رحم ہے عوام نے انہیں مسترد ہی نہیں کیا بلکہ عبرت کا نشان بنا دیا ہے۔شاید ایسے ہی وقت کے لئے بزرگ کہتے ہیں کہ ،
۔“ وفا ایمان کا دوسرا نام ہے “۔





















