Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp














پنجاب کے وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے ضلعی اور تحصیل ناظمین کے استعمال کردہ فنڈز کے سپیشل آڈٹ کا اعلان کردیا ہے انہوں نے کہا کہ آڈٹ کسی غیر ملکی کمپنی سے کرایا جائے گا تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی ہے اور پنجاب کے تمام ضلعی و تحصیل ناظمین ک ریکارڈ سیل کر دیا گیا ہے ۔ ناظمین بغیر اطلاع کے کسی دوسرے ملک کا سفر بھی نہیں کرسکتے کسی دوسرے ملک جانے سے قبل پنجاب حکومت سے اجازت لینا لازمی ہے ۔ اب پنجاب بھر کے ضلعی اور تحصیل ناظمین کی نیندیں اڑ چکی ہیں گھر آئے ہوئے ہیں کہ اب کیا بنے گا ان کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹوڈسٹرکٹ آفیسرز کو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیںاور خاص کر وہ EDOsاور ڈسٹرکٹ آفیسرز جو ترقیاتی کام کراتے رہے ہیں۔سیکریڑی لوکل گورنمنٹ پنجاب اخلاق احمد تارڑنے ایک انٹرویو میں کہا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں فنڈز کا اندھا ددھند استعمال کیاگیا اور اس کا افسران نے چیک اینڈبیلنس نہیں رکھا اس حوالے سے سینکڑوں شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ اور ہم سپیشل آڈٹ کر ا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افسران آڈٹ ٹیم کو آسانی سے ریکارڈ فراہم کریں اگر انہوں نے کرپشن نہیں کی تو قصور وار نہیں ہیں قانون ہر کسی کے لئے ہے اور فیصلے میرٹ پر کئے جائیں گے ۔ مزید کہا کہ کچھ کرپٹ افسران جان بوجھ کر افواہیں پھیلارہے ہیں کہ اس نظام کو تنگ کیا جا رہا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ۔ اخلاق احمد تارڑ کافی عرصے سے لوکل گورنمنٹ میں سیکرٹری ہیں۔انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ فیصلے میرٹ پر ہوں ۔ ضلعی نظام درست طریقے سے چلے مگر اوپر سے اتنا پریشر رہا اور ان کو کام کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ جیسے یہ چاہتے تھے ۔ جنرل تنویرنقوی کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اتنے پرانے نظام کو ختم کرنے میں تیزی دکھائی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر افسری ضرور دکھاتے تھے مگر ان کے دور میں نہ تو ترقیاتی کاموں میں اتنی کرپشن تھی اور نہ کام اتنے غیر میعاری تھے ۔ کرپشن تو تھی مگر اس کی شرح بہت کم تھی ضلعی نظام آگیا اور آ ج اگر ہم دیکھیں تو بہت سارے اضلاع اور تحصیلو ں میں 10 سے15فیصد کمیشن عام ہے پھر ترقیاتی کام کرانے والے افسران نے بھی کچھ نہ کچھ حصہ لینا ہوتاہے اس لئے ترقیاتی کاموں کا معیار انتہائی ناقص ہے لاہور ، ملتان ، بہاولپور، گوجرانوالا، اور فیصل آباد میں بہت سی ایسی سکیمیں ہیں۔ جو افتتاح سے قبل ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔چند اضلاع اور تحصیلوں میں آفیسرزآفیسرز کو ترقیاتی اسکیمیں چیک کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ کیونکہ ضلعی اور تحصیل ناظمین کے قریبی رشتہ دار اور دوست ٹھیکیداری کرتے ہیں۔ اور کروڑوںکما چکے ہیں۔پورے پنجاب میں شاید ایک یا دو ایسے اضلاع ہیں جہاں ضلعی اور تحصیل ناظمین کے اچھے تعلقات ہیں اس کے علاوہ پورے پنجاب میں ضلعی اور تحصیل ناظمین آپس میں سخت مخالف ہیں اسی طرح ڈی سی اوز اور ضلعی ناظمین کی نہیں بنتی ۔ ناظمین اورپولیس کی آج تک نہیں بن پائی۔ اس سے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ ہو ا ہے ۔ ضلعی اور تحصیل ناظمین سیاسی لوگ ہوتے ہیں جو غیر جانبدار نہیں رہ سکتے ۔اپنے حماعتی یونین ناظمین کو خوش کرنے کے لئے خواتین ٹیچر کے تبادلوںکے علاوہ محکمہ صحت سمیت تمام شعبوں میں بد نظمی دیکھنے کو ملی صرف دو ضلعی ناظمین ق لیگ کے علاوہ دوسری پارٹیوں سے تھے مظفر گڑھ میں پیپلز پارٹی جبکہ قصور میں مسلم لیگ نواز شریف کے ناظم تھے اس وقت چوہدری پرویز الہیٰ صرف دو ناظمین کو ہضم نہیں کر سکے ان کے خلاف وہ تمام اقدامات کئے جو کر سکتے تھے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحرکیں چلانے کے لئے اور ان کی حمائتی یونین ناظمین کی وفا داریاں تبدیل کرانے کے لئے بے شمار جھوٹے مقدمے درج کرائے گئے یونین ناظمین کے بھائی والد ، قریبی رشتہ داروں کے خلاف مقدمات درج کر کے ان کو گرفتار کیا جاتارہا ۔ حالیہ الیکشن میں بھی ضلعی حکومتوں کا کردار جانبدار رہا ہے ۔ کمیونٹی اپ لفٹ پروگرام کی مدمیں بھاری فنڈز خروبرد ہو چکے ہیں اس حوالے سے بھی اعلیٰ سطحی انکوائری کی ضرورت ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ کمیونٹی اپ لفٹ پروگرام کے فنڈز کہاں گے ضلعی نظام میں کرپشن ہوئی ہے بلکہ کرپشن کی حدیں پھلانگی گئی ہیں مگر چند اضلاع اور تحصیلیں ایسی بھی ہیں جہاں کرپشن نہیں ہوئی یابہت ہی کم ہوئی ہے ۔ حکومت پنجاب کا فرض بنتا ہے کہ وہ بالکل غیر جانبدار ہو کر اس کا آڈٹ کرائے کرپشن میں ملوث ضلعی ناظمین اور تحصیل ناظمین کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کریں کرپشن نہ کرنے والے ایماندار ضلعی اور تحصیل ناظمین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے انتقامی سیاست کا خاتمہ ہو نا چاہیے وہ کھیل نہیں کھیلاجانا چاہیے جو ق لیگ کھیلتی رہی ہے ۔ اور اسی طرح کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف بھی بلا امتیاز کاروائی ہونی چاہیے چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیو ں نہ ہوں اور اچھے افسران کی حوصلہ افزائی کرنے چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں بھی بہتر کام کرسکیں ۔ کیونکہ یہ قوم کاپیسہ ہے اس کو ملکی ترقی میں خرچ ہونا چاہیے کہ پاکستان عوام کے لئے آسانیاں پیدا ہوں اس وقت پورے پنجاب میں ق لیگ کے ضلعی اور تحصیل ناظمین موجود ہیں۔اب وہ مسلم لیگ ن کے حصہ بن کر کام کرنا چاہئے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن صوبہ پنجاب اور ملک کی ترقی چاہتی ہے تو انتقامی کاروائی کا خاتمہ کر کے محنتی اور ایماندار ناظمین اور افسران سے کام لیں اب پھر تبدیلی کے باتیں ہورہی ہیںایسا کوئی بھی قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے کیونکہ پہلے بھی ملک کا بہت نقصان ہو چکا ہے ۔



