اگر دُنیا کی مہذب اقوام کی سماجی اقتصادی حالت کا جائزہ لیا جائے تو دیگر اقوام اپنی موثر منصوبہ بندی کی وجہ سے دن دوگنی رات چو گنی ترقی کر رہی ہیں جبکہ اسکے بر عکس ہم ترقی کے بجائے ذلت اور تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ لوگ مریخ ، چاند سیاروںاورستاروں پر کمند ڈا لے ہوئے ہیںجبکہ اسکے بر عکس ہم 60سال گذر نے کے با وجود بھی اکیسویں صدی میں بجلی اور پانی کے بُنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے مالا مال فر مایا ہے مگر ہماری نالائقی، نااہلی اور خود غر ضی کی وجہ سے ہماری قیادت اس سے بھر پور استفادہ نہ کر سکی۔ جسکی وجہ سے آئے دن ہم بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ہمارے ملک کے حکمران تو صرف ایک ہی بات اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ کس طرح ملکی وسائل کو لوٹ کر سوئزر لینڈ اور دنیا کے دوسرے بینکوں میں رکھا جائے۔ کبھی ایک کی باری ہو تی ہے اور کبھی دوسری کی۔ ایک ہمیں اسلام کے نام پر لو ٹتا ہے اور دوسرا ہمیں کوئی اور نام پر۔ العرض اشرافیہ کلاس ،چوروں اور ڈا کووں کی طرح ملکی وسائل کو لوٹ کر چند سال کے لئے غائب ہو کر کچھ عرصہ بعد دوبارہ پاکستان کے سیاسی اُفق پر نمودار ہو جاتے ہے۔پہلے وہ خود سیا ست کر تے اور اقتدار کی کرسی پر برا جمان ہیں اور بعد میںاُنکی اولاد اور اہل وعیال ہمارے حا کم اور آقا بن جاتے ہیں۔ ایک طرف اگر مہنگائی، رشوت، کرپشن، پٹرول اور ڈیزل کے بڑھتی ہوئی قیمتوں مہنگائی اور لاقانونیت نے ہماری زندگی جہنم بنائی ہوئی ہے تو دوسری طرف بجلی لو ڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ پنڈی اسلام آباد جیسے جُڑواں شہر وںمیں بھی 8سے 10 گھنٹے تک لو ڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔آج کل پورے ملک میں میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی، آئی کام اور سکول کے بچوں کے امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔وہ بچے اور نئی نسل خا ک قوم کے معمار بن سکیں گے جہاں پر 10 سے 12 گھنٹے لو ڈ شیڈنگ ہو ۔ملک کے زیادہ تر ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ اس وقت بچوں میں نفسیاتی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں سب سے بڑی وجہ بچوں کی نیند کی کمی اور کم خوابی ہے جو زیادہ تر لو د شیڈنگ کی وجہ سے ہے۔نہ صرف بچے بلکہ ہمارے بُزرگ حضرات بھی لو ڈ شیڈنگ کی وجہ سے انتہائی مُتا ثر ہو رہے ہیں۔ملک کے مُختلف ہسپتالوں میں زیادہ تر مریض اپریشن کے دوران بجلی کی لو ڈ شیڈنگ کی وجہ سے دم توڑ جاتے ہیں۔ پرویزمشرف ، شوکت عزیز اور چو دھری برادران تو 9 سال تک غریب لوگوں کو بے وقوف بناتے رہے ۔ اور اب موجودہ حکمران بھی قومی مفاہمتی آر ڈیننس کی وجہ سے مشرف اور انکے با قیات کا ساتھ دے رہے ہیں۔موجودہ حکومت، صدر پر ویز مشرف کو، جوملک اور قوم کو سب سے زیادہ نُقصان پہنچانے والا ہے ،کی پوری پوری حمایت اور حفاظت کر رہی ہے۔ ۱۸ فر وری کے انتخا بات سے پہلے اس ملک کے غریب، پسے اور مظلوم طبقے نے سوچا تھا کہ پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے حق میں ووٹ دیکر مشرف اور انکی باقیات سے جان چھڑا سکیں گے مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ نو مُنتخب حکومت خود چوروں ، ڈاکووں ، راشیوں ، کمیشن ایجنٹ اور کرپشن مافیا کے ساتھ مل گئی ہے۔ وطن عزیز میں پانی سے بجلی پیدا کر نے کی 40ہزار میگا واٹس صلا حیت موجود ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے حکمران اگر لو ٹ کھسوٹ سے فا رغ ہوتے تو انکی طرف توجہ دیتے۔اس وقت بجلی کی ٹو ٹل پیداور تقریباً18000 میگا واٹس ہے جبکہ اسکے بر عکس 30 سے 40 فی صد بجلی چو ری کی جاتی ہے، جوکہ تر بیلا ڈیم کی ڈبل کیپیسیٹی کے برابر ہے۔مگر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس بجلی چوری میں ہمارے بڑے بڑے سیاست دان، جاگیر دار اور کا رکانہ دار ملوث ہیںجسکا نتیجہ یہ ہے کہ آئے دن یا تو تیل، گیس اور یا بجلی کی نر خوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یا ایسے کام کئے جاتے ہیں جس سے ملک کے غریب طبقے کو مزید نُقصان ہو رہا ہو۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو بجلی، گیس اور توانائی کے متبادل ذرائع توانائی کو فروع دینا چاہئے تاکہ آئندہ وقتوں میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مستقل خا تمہ کیا جائے۔ متبادل ذرائع توانائی کے سلسلے میں الٹرنیٹیو انرجی بورڈ کو کافی فنڈز اور وسائل مہیا کئے گئے مگر بد قسمتی سے انرجی بو رڈ نے لو ٹ کھسوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ انرجی بورڈ کی معاملات کی تحقیقات کریں اور اس ادارے میں جتنی کرپشن ہو ئی ہو اس کا ایک ایک پیسہ اس ادارے کے سابق فوجی افسر شاہد حا مد سے وا پس لے لیا جائے۔علاوہ ازیں پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انرجی ٹیکنالوجیز کو مزید فنڈز فراہم کر نی چاہئے تا کہ ملک میں توانائی کے مسئلے پر قابو پایا جائے۔علاوہ ازیں اس وقت ملک میں کالا باغ ڈیم کے علاوہ ہمارے پا س ایسی 7 جگہیں موجود ہیں جن پرکام شروع کر کے 17000 ہزار میگا واٹس بجلی 8 سال تک تیار کی جا سکتی ہے۔





















