Japan      Pakistan     London      Washington  
Fax : 81-285-287962
EMail : awazehaq1@gmail.com
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

Awaz-e-Haq

مشرف صاحب ، کونسی اقتصادی ترقی اور کونسی نوکریاں ۔ کالم ۔ اعجاز احمد

leave a comment

پچھلے دن ایک ٹی وی پروگرام ملا حظہ کر رہا تھا ۔ پرو گرام کا تعلق نفسیاتی مسائل سے تھا ۔ اس پروگرام کے کمپیر اور ماہر نفسیات نے پاکستان کے بڑے بڑے سیاست دانوں جس میں صدر پر ویز مشرف ، پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زرداری، وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی اور پا کستان مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف کی شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ کیا۔ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ صدر پر ویز مشرف عام طور پر غیر ضروری اور بے بُنیاد ایشو پر ڈٹ جانے والے اور انتہائی انا پرست انسان ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زرداری کے بارے میں ان ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداریysterious M پُر اسرارشخصیت اور سیماب مزاج طبعیت کے مالک ہیں۔پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے قائد محمد نواز شریف کے بارے میں اس ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور اندیش، معاملہ فہم اور اصول پسند ہیں جبکہ وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی کے بارے میں انکی رائے تھی کہ وہ ہر چیز میں ایک نئی تحریک اور جہت لانا چاہتے ہیں ۔اگر ماہر نفسیات کے مذکورہ بیانات کو دیکھا جائے تو صدر پر ویز مشرف کے بارے میں اس ماہر نفسیات کی رائے بالکل صحیح ہے۔اگر صدر پر ویز مشرف کے گذشتہ8 سالہ دور اقتدار کو دیکھا جائے تو اس میں صدر پر ویز مشرف اور اُنکے امپورٹیڈ وزیر اعظم شوکت عزیز بار بار اس بات کا اعادہ کرتے چلے آرہے تھے کہ پاکستان کی اقتصادی شرح7 فی صد ہے۔ اگر حا لات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو حالات بالکل اسکے بر عکس ہیں۔ غریب غریب تر ہو تا رہا اور امیر امیر تر ہو تا رہا اور حالات یہاں تک پہنچے کہ غریب اور امیر کے درمیان فرق 80:20 ہو گیا جہاں پر 20فی صد لوگوں کے پاس 80 فی صد دولت اور وسائل ہیں جبکہ80 فی صد لوگوں کے پاس 20 فی صد وسائل ہیں۔اگربفرض محال پاکستان کی اقتصادی شرح نموو 7 فی صد ہوتی تو نوکریاں اور جابز بھی اس حساب سے بڑہنی چاہئے تھی مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ وطن عزیز میں جابز اور نو کریوں میں اضافہ کے بجائے اس میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ صدر پر ویز مشرف اور شوکت عزیز کے دور حکومت میں اتنا جھوٹ اور غلط بیانی کی گئی کہ شاید ہی ما ضی میں اسکی کوئی مثال ملے۔اگر ہم 1999 اور اسکے بعد 2007 تک اقتصادی تجزیہ کریں تو جو سماجی اقتصادی حالات 1999 میں تھے وہ 2007 کے سماجی اقتصادی اشاروں سے بدر جہا بہتر تھے۔مثلاً 1999میں ایک ڈالر میں6 کلو گرام کا آٹا خریدا جا سکتا تھا جبکہ اب ایک ڈالر سے ڈیڑھ کلو گرام آٹا خریدا جا سکتا ہے۔مشرف صا حب کی نام نہاد اقتصادی ترقی کے باوجود بھی سال 1999 سے سال 2007 تک 17ملین مزید لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہو گئے۔ اور اس میں بتدریج اضا فہ ہو رہا ہے۔عالمی بینک کی حا لیہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں قحط جیسی صورت حال ہے۔ پاکستان کے بارے میں اخبارات اور بین لاقوامی جائزے پڑ ھتا رہتا ہوں ۔ ان جائزوں اور اور اخباری خبروں کے مطابق اس وقت ملک میں خود کشی اور عصمت فروشی کے زیادہ تر واقعات غُر بت اور افلاس کی وجہ سے ہیں۔ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بد عنوانی جو سال 1999میں 19.6فی صد تھی اور جو سال 2007میں 26 فی صد تک پہنچ گئی۔حکومتی معاملات میں حکومت کی نا اہلی جو سال 1999میں 22 فی صد تھی سال 2007 میں37 فی صد تک پہنچ گئی۔اگر زندگی کی تمام مدوں کو جس میں تجارت، کامرس، تجارتی مالیاتی ادارے اور خد مات کے شعبے شامل ہیں اس میں اچھائی اور بہتری کی جگہ برائی آرہی ہے۔اگر مینو فیکچر کی صنعت کو دیکھا جائے تو اقتصادی ترقی کے باوجود جو کہ سال 2003 میں ۱۴ فی صدتھی سال 2005 میں15.5فی صد تھی اس میں نوکریوں کی شرح سال 1999 میں 44.3فی صد سے گھٹ کر سال 2007 میں 43.9فی صد ہوگئی۔پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ کہ ملک میں موجودہ لو د شیڈٖنگ کی اصل وجہ اقتصادی ترقی میں اضافہ ہے۔ صدر پر ویز مشرف کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں بجلی کی مانگ میں 10فی صد ا ضا فہ ہوا ہے ، مگر اسکے بر عکس بجلی اور سوئی گیس کی مدوں میں نو کریوں کی مد میں نو کریوں کا اضافہ دیکھا جائے تو اس میں مسلسل کمی آرہی ہے ۔ گیس اور بجلی کی مدوں میں سال 2006 میں بالترتیب0.8فی صد اور0.7فی صد کمی آئی ہے۔اس طرح تجارت میں بھی کمی آرہی ہے۔ سال 1999 میں تجارت کی مد میں نو کریوں کی شرح 14.8فی صڈد تھی جو کہ سال 2006 میں14.1فی صد تک کم ہو کر رہ گئی۔اس طر ح کامرس میں نو کریوں کی شرح سال 1999 میں5.9فی صد تھی جو سال 2006 میں 5.6تک کم ہو کر رہ گئی۔مالیاتی ادروں میں بھی نو کریوں کی شرح سال 2001 میں 0.9فی صد تھی جو موجودہ حکومت کے مودہ بینکنگ نطام میں بہتری کی باوجود بھی آگے نہ بڑھ سکی۔سماجی یعنی سوشل سیکٹر میں نوکریوں کی شرح سال 2000 میں 15.5فی صد تھی جو سال 2006 میں 14 فی صد تک کم ہو کر رہ گئی ۔ ویسے یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس ملک کے غریب لوگوں کو کب تک جھوٹ اور فریب کی لوری پر سُلایا جائے گا ؟۔ خب تک ان غریبوں اور لا چاروں کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہے گا؟۔ مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر چیز جب اپنے حدود کو عبور کر تی ہے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکلتا رہتا ہے۔

Written by Editor

Posted in Pakistan News