Japan      Pakistan     London      Washington  
Chief Editor : Rana Waqas Abrar
Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

میرے مخا طب وہ پارٹی پرست کارکن نہیں جن کے قبلے کی سمت کا تعیّں ان کے رہنماؤں کی چھلانگیں کرتی ہیں ، جن کے نعروں میں تحریف ہوتی رہتی ہے، اور رہنماؤں کی بے اصولی اور ابن الوقتی جنکی پیشانیوں پر بل نہیں ڈالتی ۔

میرے مخاطب کم فہمیوں کے اندھیروں میں غرق اور خوش فہمیوں کی چادر اوڑھے سوئے ہوئے وہ قلم کار بھی نہیں جو نئی حقیقت کے سورج کی حرارت سے پریشاں حال ہیں اور سچ کے دو بول لکھنے سے پہلے ہی جنکے قلم دان خشک ہوجاتے ہیں ۔

میرے مخاطب وہ عوام دوست سیاستدان بھی نہیں جنکے چہروں کو نئے نئے اقتدار نے ایسی رونق بخشی کے خود کُشیاں و بیروزگاریاں ، قلتیں و غربتیں ، ذخیرہ اندوزی و خود سوزی ، بے امن او امان اور انصاف کا فقدان ، جیسے مسائل کی گرم ہوائیں ان کا رنگ پھیکا نہیں کرتی ۔ جو این آر او کی آب زم زم سے غسل کرکے سب کچھ صاف ستھرا دیکھنے لگتے ہیں ۔ جو کسی مرغ کی طرح وقت بے وقت پارلیمینٹ کی بلادستی کی بانگیں دیتے رہتے ہیں اور حقیقتاً محض اپنے اقتدار کی بلادستی کے شوقین ہیں ۔

میرے مخاطب کوئی بھی ایسا سیاسی کھلاڑی نہیں جو سیاسی منافقت کی فیکٹری میں بنی آئینی پیکج کی فٹ بال پر کک لگا کر گول کرنے کا سوچ رہا ہے ۔
میرے مخاطب وہ عوام بھی نہیں ۔ جس کا مسئلہ صرف آٹا ، روزگار ، بجلی اور مہنگائی ہے ۔ جن کے بس یہ چار مسئلے حل ہوجائیں تو بس پھر کچھ درکار نہیں ۔
جن کے مسئلوں کے گھڑیال میں بس یہی چار گھنٹے بجتے ہیں ۔جنہیں صرف بھرا پیٹ ، روشن چاردیواری اورہر تیس دن بعد بس اگلے تیس دن گزارنے کا چارہ چاہیے اور کچھ بھی نہیں ۔انصاف ہو نہ ہو عدلیہ ہو نہ ہو ، معاشی نا ہمواریاں قائم رہیں اور ظلم کا چاند سوا نیزے پر آکر منہ چڑائے ۔ لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔بس انکے بس یہ چار مسئلے حل ہوجائیں ۔
ان میں سے کوئی بھی میرا مخاطب نہیں ۔۔۔۔!!!!
کیوں ۔ ؟؟؟؟
کیونکہ ۔
سیاسی کارکنوں کے گلوں میں ایک بعیت ہوتی ہے ۔ جب تک وہ اصول کی بنیادوں پر اپنے اپنے رہنماؤں کے پیچھے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔ یہ بعیت بعیت رہتی ہے ۔اور جب رہنما بے اصولی ، منافقت ،جھوٹ ۔،فریب جیسے امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے تب ان کارکنوں کا اس وقت بھی انکے ساتھ رہنا انکے گلے کی بعیت کو ایک توک میں بدل دیتا ہے ۔ ایک مصلحت یا مفاد ، یا مجبوری کی توک ۔ یہ توک ان کی گردن سے ایسے چپک جاتی ہے کہ سر جدا کیے بغیر اسے جدا کرنا ممکن نہیں رہتا ۔ اس لئے سر اور سردار دونوں کی حفاظت انہیں کرنا ہی پڑتی ہے ۔ تو ایسی توک کے پابند سیاسی کارکنوں سے مخاطب ہو کرمیں کیا کروں ؟؟؟؟۔

میں عوام دوست سیاست دان سے اس لئے مخاطب نہیں ۔کیونکہ ان کے کان نہیں ہوتے ۔ یہ سن نہیں سکتے ۔ وہ تمام آوازیں جن میں مسائل کا بین ۔ نا انصافی کا ماتم ۔ بھوک کی چیخ ۔ بے روزگاری کا گریہ ۔ وعدوں کی یاد دہانی کی فریادیں شامل ہوتی ہیں یہ سن نہیں سکتے ۔ اس لیے میں ان سے مخاطب نہیں ہوں ۔

میں خوش فہم قلم کاروں سے اس لیے مخاطب نہیں ۔کیونکہ انکے قلم محض غلط فہمی، غیر حقیقت، پسندی ، پارٹی پرستی ، مصلحت اور مفاد کی سیاہی سے سے بھرے ہوئے ہیں ۔ وہ اسی سیاہی سے ٦٠ سا لوں سے اپنی تاریخ سیاہ کرتے آرہے ہیں۔ اور آج بھی اسی میں مصروف ہیں میں انکی اس مصروفیت میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا ۔

میرے مخاطب صرف بجلی ، آٹا ، غربت اور مہنگائی کو رونے والے عوام اسلیے نہیں کیونکہ ۔ یہ مسائل کی بے شمار لاشوں میں سے اپنی من پسند تین چار لاشوں پر ہی ماتم کرتے ہیں ۔ اور باقیوں کو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں ۔ کیونکہ عوام کا یہ طبقہ محض آٹا اور بجلی اور غربت اور مہنگائی کو رو رہا ہے ۔ اور اسے وہ نا انصافی پر مبنی قائم نظام نطر نہیں آتا جو اسکے ان تمام مسائل کا اصل زمے دار ہے ۔ اگر فرعون بھی آکر انہیں آٹا ، بجلی دے دے اور انکی غربت اور خستہ حالی کو فراخی میں بدل دے تو یہ اُسے بھی اپنا مسیحہ مان لیں گے ۔

میں عوام کے اس طبقے سے اس لیے بھی مخاطب نہیں کیونکہ اسے اتنا بھی ادراک نہیں کہ اسکے تمام مسائل کا حل ایک پی سی او فری عدلت کے نظام میں ہے ۔ عوام کا یہ طبقہ اپنا مسئلہ عدل قرار نہیں دیتا ۔ اور محض اس چوپائے کی طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے جسے رہنے کے لیے ایک صاف باڑہ ، اور کھانے کے لیے بس چارہ ملتا رہے تو بہت ہے ۔ یہ اس باڑے سے نکلنا نہیں چاہتا اس لیے میں اس سے مخاطب نہیں ۔

میرے مخاطب وہ تمام عوام ہیں جو کسی درخت کے ٹیرھے تنے کا ذمہ دار جڑوں کے سمجھتے ہیں۔ جو پین کلر کے عارضی افاقے کی نسبت مرض کو جڑ سے ختم کرنے کے آرضو مند ہیں ۔ جو آٹا ، بجلی اور غربت ۔ مہنگائی جیسے سنگین مسائل کا علاج عدل اور انصاف کے نظام میں تلاش کرتے ہیں ۔ جو اپنے تمام مسائل کو ایک اکائی کی صورت دیکھتے ہیں۔ اور نظام کے بدلاؤمیں ہی اپنے حالات بدلنے کا ادراک رکھتے ہیں ۔
میرے مخاطب وہ تمام لواحقین ہیں کہ جنکے پیاروں کو کسی پیشہ ور بردہ فروش کی طرح اغواہ کرکے سمندر پار فروخت کردیا جاتا ہے ۔ اپنے پیاروں کی یہ جدائی انہیں آٹا ، بجلی ، اور غربت سے کہیں زیادہ ستاتی ہے۔

میرے مخاطب وہ تمام محنت کش کسان اور ہاری ہیں ۔ جنکی مجبوریوں کے قرضے ذمینداروں پر واجب ہیں جن کی وصولی ان کی عزتوں کو تاراج کر کے کی جاتی ہے ۔

میرے مخاطب عوام کی وہ قطار ہے جو گھنٹوں یوٹیلیٹی اسٹورز کے سامنے کھڑی رہتی ہے جب کہ دوسری طرف اس اسٹور کا مالک کی بغیر اجرت کے ملازم کی طرح تمام سامان اُٹھا اُٹھا کر کسی صاحب کی لینڈ کروزر گاڑی میں بھرتا ہے اور آخر میں جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اُسے کچھ نہیں ملے گا تو اس کھلی بے انصافی پر وہ کڑھتی ہے ۔

میرے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو اپنے دُکھوں کے ساتھ ساتھ پرائے غم کے لئے بھی دو آنسو بہالیتے ہیں ۔ ملتان کی بشرا کی اسکے بچوں کے ساتھ خود کشی جنکی بھوک اُڑا دیتی ہے ۔

میرے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو اپنی ذاتی پریشانیوں کے باوجود طیفل شاہ جیسے مقروض نوجوان کی بینک ریکوری ٹیم کے ہاتھوں قتل کی خبر پر چونک پڑتے ہیں ۔ اور سوچتے ہیں اربوں روپوں کے مقروضوںکو آخر کیوں کوئی ریکوری ٹیم نہیں ستاتی ۔
میں ہر اُس فرد سے مخاطب ہوں جو اپنے دُکھوں کے ساتھ ساتھ اوروں کے غم کو بھی اپنے دل میں جگہ دیتا ہے ۔ جو اپنے لیے آٹے ۔ بجلی ، غربت ، مہنگائی کے ساتھ لال مسجد میں بے گناہ مارے جانے والوں کے لیے اور دن دیہاڑے اغوا ہوکر بک جانے والوں کے لواحقین کے لیے انصاف بھی ضروری سمجھتا ہے ۔

میں ہر اُس دل سے مخاطب ہوں جواپنی محدود تنخواہوں ،بڑھتی مہنگائی، اپنے قرضوں کی قسطوں ، اپنے بچّوں کے اسکول کی بڑھتی ہوئی فیسوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدلقدیر کی گرفتاری پر بھی کڑھتا ہے ۔

میں ہر اُس فرد سے مخاطب ہوں جو اپنے تمام مسائل میں اُلجھے ہونے کے باوجود جنرل مشرف کے ٣ نومبر کے مارشل لا کو غیر آئینی سمجھتا ہے اور اُسے کالعدم قرار دینے والے ججوں کو سلام کرتا ہے ۔ اور اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کے اس کے تمام مسائل صرف علامات ہیں اصل مرض آمریت اور اسکے سائے میں پلنے والہ سسٹم ہے جو کسی بھی قسم کی جواب طلبی سے ماورا ہے ۔اس لیے وہ اپنے تمام مسئلوں کا حل ایک انصاف پر مبنی نظام میں دیکھتا ہے ۔

میں ہر اُس شخص سے مخاطب ہوں جو قطرہ بن کر نہیں جی رہا ۔ جو ملکے کے تمام مسائل کو ایک جسم کی صورت دیکھتا ہے اس لیے صرف اپنے ہاتھوں کے درد اور پاؤ ں کی تھکن کا رونا نہیں روتا بلکہ پورے بدن کی دُکھن کا احساس کرتا ہے ۔ جسے باجوڑ میں امریکی مزائیل سے راکھ ہوجانے والوں کی تپش کا احساس بھی ہوتا ہے اور اسکے جواب میں بالادست اسمبلیوں کے ارکان کی کسی برف کی مانند جمی ہوئی ملکی خود مختاری کی تقریروں کی ٹھنڈک بھی محسوس ہوتی ہے ۔
ہر وہ شخص میرا مخاطب ہے جسے ٥ ماہ قید رہنے والے ایک آمر کی ذاتی خواہشات کو آئین کا لباس نہ پہنانے والے ججوں کا بحال نہ ہونا بھی پریشان کرتا ہے ۔اور جو پی سی او کے توک پہن کر برہنہ آمرانہ اقدامات کو آئینی چادر اُڑھانے والے ججوں اور اسے ایک جرم قرار دے کر گرفتار ہونے والے ججوں کے درمیان فرق کو محسوس کرسکتا ہے ۔

میں ان سب سے مخاطب ہوں اور ان سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں ۔ کہ ١٨ فروری کو منتخب ہونے والی جس حکومت کو آپ نے ووٹ دیے ہیں ۔ آپ اُس سے ہرگز ہرگز مایوس نہ ہوں ۔کیونکہ یہ آپکی منتخب کردہ حکومت ہے اس لیے یہ آپکے مسائل کے حل کے لیے ضرور کوئی آئینی پیکچ لائے گی ۔
اس حکومت کے وزیرا عظم پاکستان کی تاریخ کے سب سے مضبوط وزیراعظم ہیں جن پر پہلی بار پوری اسمبلی نے اعتماد ظاہر کیا ہے ۔ جو اتنے طاقتور ہیں کہ جب اُن سے ڈاکٹر عبدالقدیر کی رہائی کے بارے میں استفسار کیا جاتا ہے تو بے باکی سے فرما دیتے ہیں اُن سے پوچھیں جنہوں نے گرفتار کیا ہے ۔ اس حکومت کے ارکان پارلیمینٹ کی بالادستی قائم کرکے آپکے تمام مسائل حل کرے گی ۔ اور پارلینٹ کی بلادستی اُسے زیر دست رکھنے والی قوت سے سمجھوتا کرکے کرے گی ۔
یہ حکومت آپکے لیے آٹا کا بندوبست بھی کرے گی اور بجلی کا بھی بس ذرا اسے تھوڑا موْقع دیجئے اور آمر سے سودے بازی کرنے دیجئے اور اگر اس سلسلے میں وہ جسٹس چوہدری کی قربانی دے دیتی ہے اور جواب میں ٥٨ ٹو بی واپس لے لیتی ہے تو سودا برا نہیں ۔آپکو جسٹس چوہدری سے کیا لینا دینا ۔ بس آپکو بجلی آٹا اور روزگار کبھی نہ کبھی اس بارگیننگ کے بعد مل ہی جائے گا ۔یہ حکومت آپکے لیے انصاف کا ایک اعلی نظام بھی قائم کرے گی اور اسکی بنیاد بستر مرگ پر پڑے ہوئے نظریہ ضرورت کو پی سی او کا آکسیجن دینے والے ججوں کے ذریعے ہوگا ۔
یہ حکومت آپ کے تمام مسئلوں کو قومی مفاہمت کی منتر سے چٹکیوں میں حل کر دے گی ایسا قومی مفاہمت جس کے نافظ ہوتے ہی جبرئیل اور ابلیس کے اسٹیٹس میں کوئی فرق نہیں نہیں رہ جائے گا ۔یہ حکومت آپکے ہر مجرم ۔ ہر قاتل ۔ ہر رہزن ۔ کے لیے آئینی پیکج کے زریعے اُسکے تمام کارہائے نمایاں کو ملک کا آئین بنا دے گی ۔ تو پھر کوئی جرم باقی ہی نہیں رہے گا ۔

آپ اس حکومت سے ہرگز مایوس نہ ہوں ۔ یہ آپکے لیے سب کچھ کرے گی ۔ بس ایک کام یہ کسی صورت نہیں کرے گی ۔ یہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال ہرگز نہیں کرے گی ۔ کیونکہ وہ اس حکومت کو اتنے اچھے اچھے کام جو نہیں کرنے دینگے ۔
آپکو بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری سے کیا لینا ۔ آپ سب بھی اپنے اپنے مسائل کو دیکھیں ۔ اور ان لوگوں جیسے بن جائیں جن سے میں مخاطب نہیں ۔
جیسا دیس ویسا بھیس۔ میرا آپ سے مخاطب ہونے کا مقصد بس اتنا ہی تھا ۔

Chief Editor : Rana Waqas Abrar
Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp