Japan      Pakistan     London      Washington  
Chief Editor : Rana Waqas Abrar
Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

جس جو ش و خروش سے سول سوسائٹی، وکلاء حضرات اور میڈیا کے اہل کار سپریم کو رٹ کے معزول ججان کی بحالی کے لئے مہم چلا رہے ہیں، اسی طرح مہم اُن لُٹیروں ظا لموں اور غا صبوں کے خلاف بھی چلانا چاہئے جنہوں نے ملکی وسائل دونوں ہاتھوں سے لو ٹ کر غریبوں کی بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اُنکو خود کشی اور عصمت فروشی جیسے دھندے پر مجبو ر کیا ۔ آرمی ڈیکٹیٹر جنرل پر ویز مشرف نے جب 1999 میں ملک کے مُنتخب وزیراعظمنواز شریف سے حکومت زبر دستی چھین کر اقتدار پر براجمان ہوئے،مُجھے اچھی طر ح یاد ہے کہ جنرل پر ویز مشرف نے اپنی پہلی نشری تقریر میں کہا کہ ملکی خزانہ خا لی ہے۔ کچھ عر صے بعد صدر پر ویز مشرف نے لب و لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے خزانہ بھرا ہے ۔ وہ بار بار اپنی نشری تقریروں اورٹی وی مذاکروں میں اس بات کا اعادہ کر تے چلے آرہے تھے کہ اب ہم وطنوں کو کسی قسم کی فکر نہیں کر نی چاہئے ملک کو کسی قسم کا مالی مسئلہ دشواری نہیں کیونکہ بقول اُنکے ملک کے خارجہ سکے کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔ 18 فر وری کے2008کے عام انتخابات میں اب جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پا رٹی اور اے این پی اقتدار میں آئی تو ملک کی اقتصادی حالت میں یکدم ایک ڈرامائی تبدیلی آئی وطن عزیزمیں پر ویز مشرف سے ورثے میں ملی جاری آٹے اور بجلی بُحران اور مہنگائی نے مزید شدت اختیار کر لی۔ حال ہی پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے فلور پر تقریر کر تے ہوئے کہا کہ صدر پر ویز مشرف کے 8سالہ دور اقتدار میں پاکستان کو بین اقوامی برادری سے45ارب ڈالر امداد اور دہشت گر دی کی جنگ میں مدد کر نے پر ملے۔مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر وہ 45 ارب ڈالر کدھر گئے کیونکہ صدر پر ویز مشرف کے ان 45 ارب ڈالروں سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیںآئی، لوگ بھوک افلا س اور غُربت کی وجہ سے خود کشی ، عصمت فروشی، راہ زنی اور ڈا کے جیسے گنا ؤ ئنے جرموں اور اپنے جگر گوشوں کو بیچنے میں پر مجبور ہیں ہیں۔اگر صدر پر ویز مشرف اور شوکت عزیز کے دور اقتدار کو دیکھا جائے تو مجموعی طو ر پر ان دونوں کا دور حکومت مختلف مالی سکینڈلز ، افراتفری، لو ٹ کھسوٹ ، اقربا پر وری، مہنگائی، بد عنوانی اور لا قانونیت کا دور تھا جس میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے رہے۔ایک طر ف شوکت عزیز کے دست راست جہانگیر ترین نے200 ڈالر کا گندم بیچ کر ملک اور قوم کے خزانے کو اربوں روپوں نُقصان پہنچایا جب دوسری طرف ملک میں آٹے اور گندم کی مصنوعی قلت پیدا کر کے وہی گندم اور آٹا 500ڈالر فی ٹن خریدا گیا۔یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ صدر پر ویز مشرف نے ملک کے 16کروڑ غریبوں، لاچاروں، یتیموں اور بیواؤں کے 129 ارب روپے اس دھرتی کے سرمایہ داروں ، جاگیر داروں،کا رخانہ داروں ، بڑے بڑے سیاست دانوں ، اعلی فوجی افسران اور با اثرلوگوں کو ایسے معاف کئے جیسے یہ خزانہ اس کے باپ کا ہے۔ ایک طرف لوگ انتہائی کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کھانے اور سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں جبکہ دوسری طرف اس صدر پر ویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں بیرونی ممالک کے دوروں پر150کروڑروپے بغیر کسی مقصد کے خرچ کئے جس سے ملک کو مزید نُقصان پہنچا یا گیا۔ ملک میں لوگ بے روز گاری ، بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں جبکہ صدر پر ویز مشرف نے حال ہی میں بر طانیہ میں لندن ہائیڈ پارک کے سامنے واقع ہو ٹل میں اپنے یار دوستوں کے ساتھ ۴ راتوں کا ہوٹل کا کرایہ80 لاکھ ادا کیا۔چو دھری برادران ، شوکت عزیز ، آفتاب احمد خان شیر پاؤنے اپنی حفا ظت کے لئے کروڑوں روپوں کی لاگت سے بُلٹ پروف گا ڑیاں خریدیں۔اسی طر ح میر ظفر اللہ جمالی نے اپنے یار دوستوں اور رشتہ داروں کو ملکی خزانے سے عمرے اور حج کر وائے۔ یہ بھی کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ صدر پر ویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں اپنے منظور نظر99 لوگوں کو ایم پی ۱ اور ایم پی2سکیل دئے ، جہاں ایم پی 1سکیل کی تنخواہ ساڑھے چار لاکھ سے سات لاکھ تک جبکہ ایم پی2 سکیل کی تنخوا ہ ساڑھے تین لاکھ سے پانچ لاکھ تک ہے۔جبکہ اسکے بر عکس اس ملک میں عام ملازم کی تنخواہ تین سے پا نچ ہزار تک جبکہ پرائیویٹ ادارے اپنے ملازمین کا استخصال کر کے ڈھائی اور تین ہزار تنخواہ دے رہے ہیں۔یہ بھی کتنی بد قسمتی کیا بات ہے اس ملک میں کوئی پو چھنے والا نہیں۔ صدر پر ویز مشرف کے دور اقتدار میں 6 ارب کی لاگت سے بنا ہوا شیر شاہ بائی پاس عین صدر پر ویز مشرف کے افتتا ح کے اگلے دن ڈھیر ہو گیا ۔اسی طرح صدر پر ویز مشرف کے دور میں ہاؤس سکیم کا سب سے بڑا سکینڈل یعنی 450ارب روپے اور4.5ٹریلین روپے کا کیس ہوا ۔ یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ملک میں دہشت گر دی کی نام نہاد جنگ کی وجہ سے ۴۵ ارب ڈالر امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک سے ملے مگر اسکے باوجود بھی خا رجہ قر ضہ جو کہ1999میں32ارب ڈالرتھا سال 2006 تک42 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔علاوہ ازیں ملک کے 44قیمتی اثا ثے کو ڑی کے بھاؤ بکوائے گئے مگر اسکے باوجود بھی عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عام آدمی کو بھوک ، افلاس ، کرپشن ، مہنگائی اور لا قانونیت کی جکڑ میں ہے۔ میری سول سوسائٹی، وکلاء برادری اور ابلاغ عامہ کے اہل کاروں سے در خواست ہے کہ پاکستان میں اب تک 23وزرائے اعظم،15 صدور اور تقریباً 20 اور 30 کے درمیان جنرلز حضرات اور چند ہزار صوبائی، قومی اسمبلی کے قانون ساز اور سینیٹرز حضرات اور کئی ہزار بیورو کریٹس گزر گئے ہیں۔ اگر ان تمام کے مال جائیداد اور اثا ثو ں کی صحیح جانچ پڑٹال کی جائے تو خود بخود پتہ چل جائے کہ اس ملک اور قوم کو 60 سال تک لو ٹنے والے کون ہیں۔ ججوں کے بحالی کے بعد سول سوسائٹی، وکلاء اور میڈیا کو ان ظالموں اور لٹیروں کے خلاف مہم چلانی چاہئے جس نے اس ملک اور قوم کے اثا ثوں کو لوٹ ان کو بھوک ، افلاس، مہنگائی اور ذلالت میں دھکیل دیا۔

Chief Editor : Rana Waqas Abrar
Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp