Ph : 81-285-287961 | Fax : 81-285-287962
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp














عرب میڈیا میں اس بات کا انکشاف کیا گیا اور اس بات کا گلہ بھی کیا گیا ہے کہ اب جاپان میں بھی۔۔۔قران اور اسلام کی اہانت کا معاملہ شروع ہوا ہے ۔قران اور اسلام کی اہانت کا معاملہ شروع ہوا ہے ایک کارٹون کہانی سے ، جاپان میں ٹی وی پر اس بات کا ذکر تھا کہ عرب میڈیا نے اس اس بات کا لکھا ہے کہ اب جاپان بھی مسلمانوں کی دل آزاری میں شامل ہو گیا ہے اور اس كے بعد اس معاملے كا بتایا گیا تھا ۔
مانگا كہتے ہیں جاپانی زبان میں كارٹون كہانی كو جو كہ كاغذ پر چھپی ہو ، لیکن ان دنوں جاپانی زبان کا یہ لفظ ” مانگا ” دوسری کئی زبانوں میں بھی رائج ہو چکا ہے ، مثلاً فرانسیسی اور انگریزی میں کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو اب مانگا ہی کہتے ہیں یا پھر جاپانی سے ترجمہ کی گئی کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو تو ضرور مانگا کہتے ہیں ۔
جاپان میں مانگا کہانیاں بڑے شوق سے پڑھی جاتی ہیں اور اسی لیے کہ ان کی مانگ بھی زیادہ ہے اور اسی لئے مانگا کتابیں چھپتی بھی بہت ہیں اور مزے دار بات ہے کہ مانگا کی کتابوں کا فوراً ہی دنیا کی دوسری کتنی زبانوں میں ترجمہ ہو جاتا ہے ۔ اس لیے مانگا لکھنے والے فنکار کوشش کرتے ہیں کہ مانگا کے پس منظر میں نظر انے والا ماحول ایسا ہی ہو جیسا کہ کہانی میں لکھا جارہا ہے ۔ایسا نہیں کہ کہانی تو ہو پیرس کی اور کرداروں نے پہن رکھے ہوں شلوار قمیض ، جیسا کہ ہماری اردو کی کہانیوں میں ہوتا ہے ، صرف کرداروں کے نام پاک کر لیے جاتے ہیں اور باقی سار ماحول انگریزی والا ہی ہوتا ہے ۔
جاپان کے مقبول ترین مانگا میں ہے ایک ” ینگ ” نام کا ویکلی میگزین ، جاپان میں بہت پڑھا جاتا ہے اور تقریباً ساری ہی عمروں کے لوگ اس کو پڑھتے ہیں ۔اس میگزین میں سلسلہ وار کہانیاں اور مخصوص کردار ہوتے ہیں ۔ان میگزینوں میں چپھنے والی مانگا کہانیوں کی اینمیشن فلمیں بھی بنتی ہیں ۔
اب مسلے والے بات یہ ہوئی کہ ایک سیریز کہانی کے کردار “ جو جو اور اس کے دوست “ ساری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔ سیریز کی ایک قسط میں جو جو کے دشمن ڈیو کو مصرکے پس منظر میں ایک کتاب پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو دیکھنے میں قرآن جیسی نظر آتی ہے اور اس کے بعد ڈیو جوجو اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔
مانکا لکھنے والے نے کہا ہے کہ وہ مانگا میں ڈیو کو عربی کتاب پڑھتے ہوئے دیکھانا چاہتا تھا تاکہ مصر کا ماحول نظر آئے ، مگر عربی کی کتاب ڈھونڈ کر لانے والے کو مارکیٹ میں عربی کی جو کتاب ملی وہ قران تھا اور لکھاری نے اسی كا عكس شامل كر دیا ۔
جاپان میں كبھی كوئی انگریزی كی كتاب بھی ڈھونڈنی پڑ جائے تو ٹوکیو تک جانا پڑتا ہے اور پھر بھی امید نہیں ہوتی کہ کتاب مل جائے گی ایسے ماحول میں عربی کتاب کا نہ ملنا واقعی ماننے والی بات ہے ۔جاپانی لوگ زبانوں کی تحاریر کو زیادہ نہیں سمجھتے ۔ان کے نزدیک جاپانی ، چینی کے علاوہ رومن الفاظ ہوتے ہیں یا پھر عربی الفاظ ، اس لیے اب اگر ان کو کوئی کتاب عربی کی مل بھی جاتی تو اس پر عراب نہ ہونے کی وجہ سے یہ عربی جیسی نہیں لگنی تھی ، کچھ اس لیے بھی ، اور کچھ جاپانی لوگ مذہب کو اہمیت بھی نہیں دیتے مگر کسی کی انسلٹ کرنے کو بھی برا سمجھاجاتا ہے جاپانی ماحول میں ۔
کوئی بڑی خود دار اور اکڑ والی قوم ہیں ، یہ نہ تو کسی کی انسلٹ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی انسلٹ کو بھولتے ہیں اور اگر نادانسگی میں کسی کی توہین ہو ہی جائے تو بڑي ندامت کا اظہار کرتے ہیں اور اگر توہین زیادہ ہی ہوجائے تو شرم سے خودکشی ہی کرلیا کرتے ہیں ، یہ مذاق نہیں ایک حقیقت ہے ۔
اسی کی دہائی میں شیطانی آیات نام کی کتاب لکھنے والے رشدی کے معاملے سے بھی جاپان واقف ہیں اور رشدی کی اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے کا نوے کی دہائی میں اباراکی کین کی تسکوبا یونیورسٹی میں قتل اور اس قاتل کا ابھی تک نہ ملنا بھی جاپانیوں کو یاد ہے ۔جہاں تک میرے علم میں ہے اور جتنا میں جاپانیوں کو سمجھتا ہوں ، میرے خیال میں قران کی بے حرمتی چاہے نادانستگی میں ہی ہوئی ہوگي ، جاپانی کبھی بھی اسلام کے خلاف نہیں رہے ہیں ۔
امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے حکومت کی پالیسی ایک دوسری بات ہے ۔جاپانی تو ہمیشہ ترک مسلمانوں کے ساتھ مل کر چلتے رہے ہیں ۔مصر کی الاظہر یونیورسٹی کی فتوی کمیٹی کے سربراہ نے اس کارٹون پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی کہ اس سے ” اسلام کی اہانت ہوتی ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو دہشتگردوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے”۔فتوی دینے والے حضرات کو بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ معالات کو باریکی سے دیکھ لیا کریں ۔
عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے ۔اس فتوے کو دنینے سے پہلے کیا مصر کی الاظہر یونیورسٹی کے فتاوی سنٹر نے جاپانی ماحول کی اسٹڈی کی تھی؟؟ یا کہ ان کو جاپانیوں کا تاریخی پس منظر اسلام دشمن لگا تھا ؟؟
آگر آپ کو اللّہ نے کچھ ذمہ داریاں دی ہیں تو ان کا احساس کریں اور ایک ذمہ دار بندہ ہونے کا ثبو ت دیں نہ کہ انتشار پھلانے والی ہی باتیں ۔میرے نزدیک اسلام کی توہین ہو ہی نہیں سکتی کہ اسلام ایک سسٹم ہے ناں کہ ایک شخصیت ۔۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو میں بھی سخت سزا دینے کے حق میں ہوں لیکن اسلام کی توہین ؟؟
یہ کیا ہے ؟؟
میں نے کچھ کم علم لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کا قران کو ہاتھ لگانا بھی برداشت نہیں کرتے کہ اس سے قران کی توہین ہوتی ہے ان لوگوں کے نزدیک ۔ آگر ایک لوٹے پانی میں پیشاب کا ایک قطرہ گر جائے تو یہ پانی ناپاک ہو جائے گا مگر اگر ایک دریا میں ایک بندہ پیشاب ہی کردے تو کیا ہو گا ؟؟؟
دریا اس پیشاب کو پاک کر دے گا ۔
ہے کہ نہیں ؟؟
اسی طرح قران کو ایک لوٹا پانی نہیں ہے کہ کسی غیر مسلم کے ہاتھ لگانے سے ناپاک ہو جائے گا بلکہ بے کراں مطہریہ کتاب کسی کو بھی پاک کر دے گی ۔
خود تو قران کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے اب کسی اور کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دینا چاہتے ۔



