Japan      Pakistan     London      Washington  
Fax : 81-285-287962
EMail : awazehaq1@gmail.com
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

Awaz-e-Haq

اتحاد ۔۔۔۔۔۔امت مسلمہ کی ضرورت ۔ تحریر۔ ممتاز حیدر

leave a comment

آج سے تقریبا 1400 سال پہلے انسان کفر کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا اس کا کوئی حال نہیں تھا ماں بہن یا بیٹی کو کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ عرب خون ریزی میں مبتلا تھے چھوٹی چھوٹی باتوں میں شروع ہونے والی لڑائیاں صدیوں تک جاری رہتی تھیں باپ دادا کی شروع کی گئی لڑائی پوتے لڑتے۔ اگر کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اسے زندہ درگور کیا جاتابیٹیوں کی پیدائش کو بد شگونی سمجھا جاتا نیزپورے کا پورا معاشرہ ظلم و بربریت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر ایسے حالات میں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی کی صورت میں پیدا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو امت کی ہدایت کے لئے قرآن پاک کی تعلیمات دیں آپ صلی اللہ و علیہ وصلم نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور بنی آدم کے لئے ایک مثال قائم کی دیکھتے ہی دیکھتے وہ معاشرہ جو کبھی ظلم و بربریت میں ڈوبا تھا اب وہ عدل و انصاف، بھائی چارے، مساوات اور ایثار والے معاشرے کی صورت اختیار کر چکا وہ عورت جو کبھی زندہ درگور کی جاتی اسے معاشرے میں ایک اہم مقام دیا ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کی وہ شمع جو عرب کے تپتے صحرا سے اٹھی پوری دنیا میں اپنی روشنی پھیلا چکی۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا اس کے لئے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قربانیاں دیں ان کا کوئی حساب نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کے جانثاروں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کی ہر ایک بات پر لبیک کہا آپ کے ایک اشارے پرآپ کے صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کے ساتھی مر مٹنے کو تیار ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاشرے کا قیام عمل میں لایا جس کی مثال رہتی دنیا تک رہے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم نے مدینہ شریف میں سب سے پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لایا۔جس کی بنیاد اللہ پاک کے بتلائے ہوہے طریقے پر رکھی گئی اس ریاست میں مسلمان تو مسلمان کفار بھی اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے۔ ہر طرف عدل و انصاف کا بھول بھالا تھا تمام انسانوں کے حقوق برابر تھے کوئی کسی سے برتر اور کوئی کسی سے کم تر نہں تھا پھر ایک وقت ایسا آیا محسن انصانیت پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم نے اپنے صجابہ کے ہمراہ حجۃالوداع کے موقع پر تمام مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوے یہ گواہی دلوائی کے اللہ پاک نے جو کام ان کے ذمے دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم نے اس کو بخوبی انجام دیا سب مسلمانوں نے یک زبان ہو کر اس کی گواہی دی۔ اس خطبے کے کچھ عرصے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے اوراسلام کی تبلیغ کا اہم کام اپنے جانثار ساتھیوں کو سونپ گئے۔ آپ صلی اللہ و علیہ وصلم کے ساتھیوں نے اس کام کو بخوبی سر انجام دیا اور دین اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تاک پہنچایا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کے ساتھی قرآن و سنت کی تعلیمات کو لے کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے اسلامی فتوحات کاسلسلہ شروع ہو گیا اور دنیا کے بیشتر علاقوں میں اسلامی ریاستین قائم ہو گئیں۔ عرب کے صحراوں سے نکلی ہوئی اسلام کی کرن یورپ کے کلیساؤں تک رسائی حاصل کر چکی تھی۔ ہر طرف اسلام کا بول بالا تھا ہر کوئی اسلام کے نام پر جیتا تھا عرب سے نکلا ہو یہ سلسلہ بڑھتا گیااور دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گیا۔اس کی کیا وجوہا ت تھیں کہ اسلام نے تھوڑے ہی عرصے میں وہ مقام حاصل کرلیاجو اس سے پہلے کوئی اور مذہب حاصل نہ کر سکا وہ تھیں اس کی تعلیمات جو کہ پوری نوع انسانی کے لئے ایک راہ نجات کا ذریعہ ہیں اسلام ایک فرد سے لے کر ایک پورے معاشرے تک کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام کے پیروکاروں میں دن بھر اضافہ ہوتا گیا اور اسلام کے ماننے والوں نے اسلام کی خاطر ایسی بہت سی تحریکوں کا آغاز کیا جو بعد میں جا کر کسی ریاست یا ملک کی صورت میں سامنے آئیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا ملک سے ملک اور ریاست سے ریاست پر مسلماں قبضہ کرتے رہیوہاں دوسری طرف مسلمانوں کی شاندار علمی فتوحات کا سلسلے بھی جاری رہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے فنوں لطیفہ میں نام پیدا کیاکس طرح مسلمانوں نے فن تعمیر مین مہارت حاصل کی کیسے سائنس، طب، فلکیات، فلسفہ اور ریاضی جیسے شعبوں میں اپنی فتوحات کا لوہا منوایا۔ کیسے کیسے عالیشان تعلیمی ادارے قائم کیے، جدید شہری نظام متعارف کروایا، تاریخ اس چیز کی بھی گواہ ہے کہ کس طرح یورپ کی گلیاں کیچڑ اور اندھیروں سے بھری تھیں لیکن غرناطہ اور بغداد کی گلیاں قمقموں سے جگمگا رہی تھیں۔

پھر تاریخ نے کچھ اس طرح رخ بدلا کہ غرناطہ اور بغداد کے شہر جو کبھی جگماتے تھے، جو پوری دنیا میں علمی اور تحقیقی شہرت کے حامل تھے اب وہ مسلمانوں کے خون سے بھرے پڑے تھے پورے عالم کے مسلمان ایک اجتماعی زوال کا شکار ہو گئے یورپ کی گلیوں میں جہاں کبھی مسلمانوں کی تعلیمی اور تحقیقی شہرت کے چرچے ہوا کرتے تھے اب مسمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بننے لگے۔ مسلمانوں کو اندرونی سازش کا شکار کیا گیا اور ایک دوسرے کے دشمن منوا کر مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل و غارت کروایا گیا۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں مسلمان اپنی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اب دوسرے مسلمان بھایؤں کے قید خانے بن چکے تھے اور غیر اس سے نہ صرف پورا پورا فائدہ اٹھا رہے تھے بلکہ ماضی میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا باقاعدہ انتقام لے رہے تھے اور ان کا یہ انتقام اب تک جاری ہے۔ وہ مسلمان جو کبھی علم و فنون کے فاتح تھے وہ اب اپنی بے بس آنکھوں سے اپنے پیاروں کی تباہی کے منظر دیکھ رہے تھے ایسے مین دشمنان اسلام نے نہ صرف اس کا پورا پورا فائدا اٹھایا بلکہ مسلمانوں کی کی گئی تحقیق کو لے کر آگے چلے اور سیدھے چاند پر جا پہنچے ۔ 19ویں صدی امت مسلمہ کے لئے بہت بھاری ثابت ہوئی اس صدی میں امت مسلمہ نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کے دشمنان اسلام کھلم کھلا مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں اور نہایت افسوس کی بات کہ نہ صرف ہم خاموشی کے ساتھ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اپنے بھائیوں کی نسل کشی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس وقت مسلم ممالک کی تعداد تقریبا57ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سب کہ سب نام کے اسلامی ملک ہیں ایک نظریے کے مطابق ان اسلامی ممالک میں آپ کو اسلام کم ہی نظر آئے گا۔ اگر اسلام کی کوئی بات ان ممالک میں ہوتی تو امیریکہ اور اسکے اتحادی کبھی بھی عراق اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے خون کی ہولی نہ کھیلتے۔ اتحاد کی اس وقت امت مسلمہ کی شدت سے ضرورت ہے لیکن
پورے مسلم حکمران اس بارے میں کوئی قدم اٹھانے تو دور کی بات سوچنابھی گنوارہ نہیں کرتے۔ امیریکہ اور یورپ اپنے اتحاد کو روز بروز تقویت دے رہے ہیں لیکن مسلم دنیا کواپنے اندرونی مخالفتوں سے فرصت نہیں۔

وہ اسلامی قوانین جو کہ ایک مسلم ملک میں ہونے چاہیںنظر نہیں آتے۔ ان 57 اسلامی ممالک میں سعودی عرب کے علاوہ کہیں بھی عوام کو انصاف فراہم نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے امیریکہ اور اسکے حامی ممالک کو سعودی قوانین کھٹک رہے ہیں اور ممکن ہے کے آئندہ آنے والے دنوں میں یہاں بھی امیریکہ اپنی نام نہاد جمہوریت کے پنجے گاڑ نے میں کامیاب ہو جائے۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر دشمنان اسلام کو نہ روکا گیا تو جانے وہ اور کتنے نئے عراق، افغانستان جیسے محاذ کھولنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ آنے ولا کل مسلم امہ کے لئے آج سے مزید بد تر ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنے اندرونی مخالفتوں سے باہر نکل کر اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں جدید سے جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جدید تحقیق پر زور دینا ہو گا۔ نئے سے نئے منصوبوں کا آغاز کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسل کے لئے کچھ کرنا ہو گا نہیں تو کل کی نسل ہم پر فخر کرنے کی بجائے شرمندہ ہو گی۔ کیا ہم میں سے کوئی یہ نہیں چاہے گا کہ مستقبل کا نوجوان ہم پر فخر کرے اس کے لئے ہم سب کو اپنا آپ بدلنا ہو گا اپنی سوچ بدلنا ہوگی جس طرح ماضی کے مسلم ہیروز کے کارناموں کی بدولت آج ہم کسی نہ کسی صورت میں ذندہ ہیں اسی طرح ہمیں آنے والی کل کی نسل کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ ہمیں ابن سینا؛ موسیٰ الخارزمی، ابن بطوطہ؛ابو القاسم؛ یا ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے نامور سانئسدان پیدا کرنا ہوں گے نہیں تو بروز قیامت ہم اپنے پروردگار اور اسکے پیارے نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کے ساتھ ساتھ ہماری آنے والی نسل کے سامنے بھی شرمندہ ہوں گے۔

Written by Editor

Posted in Pakistan News