Japan      Pakistan     London      Washington  
Fax : 81-285-287962
EMail : awazehaq1@gmail.com
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

Awaz-e-Haq

اِحسان کا بدلہ ؟ تحریر ۔ محمد ابو سفیان ملک

leave a comment

تیس اپریل کے بعد بارہ مئی کا دِن بھی آیا اور گزر گیا، لیکن وہ وعدے ،وہ قسمیں اور وہ جھوٹے دِلاسے اِس قوم کے دل و دماغ کو چیررہے ہیں جوزرداری نے ووٹ لیتے وقت اِس سترہ کروڑ عوام سے کیے تھے۔مجھے آج شجاعت حسین کا وہ بیان بار بار یاد آرہا ہے جسمیں اُنہوں نے چیلنج کیا تھا کہ نہ تو یہ اِتحاد چلے گا اور نہ ہی یہ اتحاد ججز بحال کر سکے گا، اُنہو ں نے کئی بیانات میں پی پی اور مشرف کے اندرونی تعلقات کے بارے انکشاف کیا لیکن مہنگائی کی چکی میں پِسی یہ عوام ہر بات کو مذاق سمجھتی رہی ،آج وہ بیانات حقیقت بننے جا رہے ہیں ۔ بے نظیر دس سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس لوٹیں تو مشرف سے ڈیل کر کے۔بے نظیر کا قتل ہو گیا کس نے کیا؟ کیوں کیا؟ یہ اللہ پاک جانتا ہے مگر اُس ڈیل کو بی بی کے قتل ہونے کے بعد بھی بی بی کی جماعت نے زندہ رکھا۔ آج ججز کی بحالی سے انکار کا سہرہ اُسی ڈیل کو جاتا ہے جو محترمہ نے مشرف صاحب سے امریکی ایماء پر کی تھی۔کیونکہ ججز کی بحالی زرداری، مشرف اور امریکہ کیلئے جان لیوا ثابت ہوگی۔اِسی لیے توپیپلز پارٹی نے نواز شریف کے سامنے تیرہ نکات رکھے ہیں جن میںاِن برگزیدہ ہستیوں کیلئے محفوظ راستے مانگے گئے ہیں۔زرداری صاحب اگر افتخارمحمد چوہدری کو ہاتھ باندھ کر بحال کرنا ہے تو پھر اِس نام نہاد بحالی کی سترہ کروڑ عوام کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ پھر بہتر یہی ہوگا کہ ڈوگر صاحب ہی چیف جسٹس رہیں۔اور معزول ججز پہلوں کیطرح یاتو پی۔سی۔او کے تحت حلف اُٹھا لیںیا پھر روزی روٹی کیلئے اپنے چیمبر کھول لیں۔

قیام پاکستان سے لیکر آج تک اس بیچاری قوم کے فیصلے یا تو لندن میں طے ہوئے ہیں یا پھر نیویارک میں۔ یہ عوام ووٹ تو تیر، شیر اور سائیکل کو دیتی رہی مگر اِس ملک کی تقدیر کے فیصلے برطانیہ اور امریکہ میں ہوتے رہے۔ سابقہ دورِ حکومت میں ایک Peonسے PMتک کی بحالی اور برطرفی کے تمام تر احکامات نیویارک سے صادر کیے جاتے رہے۔ جسکا تسلسل آج بھی جاری ہے۔

ساٹھ سال بعد عوام میں کچھ شعور بیدار ہوا اور اُنہوں نے یہودیت کی غلامی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اُنکے حواریوں کو یکسر مسترد کر دیا اور ق۔لیگ کو ایسی عبرت ناک شکست ہوئی جسکی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔مگر اِس قوم کی بد قسمتی دیکھو کہ ساٹھ سال بعد جب شعور آیا اور ووٹ دیا تورحمن ملک جیسے لوگوں کی جماعت کو اِس اُمید کیساتھ کہ اَب ہمیں یہودیت کی غلامی سے نجات مل جائے گی ، مگر یہ کہاں جانتے تھے کہ جن لوگوں کو ہم یہودیت کا دشمن سمجھ کر ووٹ دے رہے وہ تو ق۔لیگ سے بھی پہلے کے یہودیت کے چمچہ گیر رہ چکے ہیں۔ عوام اگر اِن حقائق سے آگاہ ہوتی کہ جنکو ہم جمہوریت کے نام پر ووٹ دینے جا رہے ہیںانہوں نے سابقہ اَدوار میں یوسف رمزی جیسے مجاہد یہودیت کے حوالے کیے تو یقینا آج حالات کچھ مختلف ہوتے۔لیکن اِس سترہ کروڑ عوام کی کیساتھ ہمیشہ ہی ’’جب چڑیاں چگ گئی کھیت‘‘ والا معاملہ ہوتاآرہا ہے۔

آج پیپلزپارٹی اُن امریکی احسانات کا بدلہ چکا رہی ہے جو احسانات امریکہ نے بی بی اور زرداری پر کیے ہیں اگر بی بی کو امریکہ دس سال اپنی گود میں پناہ نہ دیتا تو شاید جسطرح ایک جنرل نے بی بی کے باپ کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا تھا ، ممکن تھا اَب بی بی کیساتھ بھی وہی کچھ ہوتا۔پیپلز پارٹی کو کیا آپ احسان فراموش جماعت سمجھتے ہیں۔ جو وہ اۃن دس سال کے احسانات کو فراموش کرتے ہوئے امریکہ مخالف اقدامات کریگی۔

سترہ کروڑ عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیکر جو احسان کیا ہے ، پیپلز پارٹی اُسکا احسان ایک اور ق۔لیگ بنا کر دینے جا رہی ہے۔ سنا ہے ق۔لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم ملکر صدر مشرف کی سربراہی میں ایک اور ق۔لیگ بنانے جا رہے ہیں، جسکے لیے صدارتی کیمپ آج کل سرگرم عمل ہے، اِس بات کی حقیقت اۃسی دن عوام کے سامنے آگئی تھی جس دن چوہدری مختیار احمد نے مشرف کو قومی اثاثہ قرار دیا تھا، بہت اچھی بات ہے پانچ سال اسمبلی کو تو پورے کرنے چاہییں انصاف، بھوک، پانی سے بھلا کبھی کوئی مرا ہے۔ یہ عوام ساٹھ سالوں میں نہیں سیکھی جو لوگ دس منٹ میں مخدوم سے خادم بن سکتے ہیں کیا وہ اگلے دس منٹ میں خادم سے مخدوم نہیں بن سکتے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے مگراِس سولہ کروڑ عوام کو مخلص قیادت نہیں مل سکتی۔ اور ایسی قوم کو مخلص قیادت ملنی بھی نہیں چاہیے جس قوم کا ضمیر مردہ ہو چکا ہو۔جس قوم کے سامنے قرآن کی بے حرمتی ہوتی رہے، جس کے سامنے محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں ہوتی رہیں، جس کے سامنے آصحابِ رسول رضی اللہ عنہما کو کھلے عام گالیاں دی جاتی رہیں، جسکے سامنے مدارس کی معصوم بچیوں پر بارود کی بارش ہو تی رہے، جسکے سامنے عدلیہ کو توحین ہو تی رہے اور وہ قوم خاموش تماشائی کیطرح تماشہ دیکھتی رہے ۔ ایسی قوم کی تباہی اُسکا مقد ر بن جاتی ہے۔کہتے جب اللہ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اُس پر جھوٹے، دھوکھا باز، بدمعاش، ڈاکو، لٹیرے ، ظالم اور جاہل حکمران مصلت کر دیتا ہے۔ ایک اسلامی ملک کے ایوانِ اقتداراور ایوان عدل میں کیسے کیسے لوگ بیٹھے ہیں،وہ جگہ جہاں اما م عدل وحریت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیسے لوگ جلوہ افروز ہوتے تھے، وہاں آج کون لوگ بیٹھے ہیں؟

اِس ملک کے نظام عدل پر اعتبار کون کرے؟ مولانا عبدالعزیز نے ایک ماہ تک پورے اسلام آباد کو بقول مشرف یرغمال بنائے رکھا۔ کبھی آئنٹی شمیم جیسی نیک سیرت سپلائر کو کام سے روکنے کی کوشش کی تو کبھی بیوٹی پارلر کے نام پر چلنے والے طوائف خانوں کو بند کرانے کے جیسے غلط اقدامات کیے۔ ا ایک روشن خیال اسلامی ملک میں کسی طوائف کو یا طوائف خانے کو غیر شرعی کہہ کر بند کروانے کا مطالبہ غلط نہیں تو اور کیا ہے ۔مشرف کی رِٹ قائم ہوئی مشرف نے مولانا کی تیرہ کلاشنکوفوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سات لاکھ فوج کو حرکت دی، جسکو یہ قوم اپنا پیٹ کاٹ کر پچھلے ساٹھ سالوں سے نوے فیصد بجٹ کھلا رہی تھی۔بلآخر سات ہزار بچوں اور بچیوں کا قتل کرنے کے بعد مشرف ہاؤس سے فتح کا اعلان صادر ہوا۔

افتخار چوہدری بحال ہوا اُس نے مولانا صاحب کو رہا کرنے کیلئے اُن پر دائر مقدمات کو غلط قرار دیتے ہوئے جامعہ حفصہ کی تعمیر کا حکم دے دیا جو کہ ایک غیر آئینی فیصلہ تھا جسکی وجہ سے چوہدری صاحب کو ایکبار پھر گھر جانا پڑا۔ بعد میں مشرف خیال عدلیہ کو لایا گیا۔ مجھے سمجھ نہیںآتی کہ افتخار چوہدری تو مشرف کے خلاف تھا جسکی وجہ سے وہ مولانا عبدالعزیز کو بیگناہ قرار دینا چاہتا تھا۔مگر موجودہ عدالتی سیٹ اَپ تو مشرف اوروائیٹ ہاؤس کااسٹیمپ شدہ ہے جس نے مولانا کے خلاف دائر 27مقدمات میں سے 26 کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور صرف ایک چھوٹے سے مقدمے کی سماعت ابھی رہتی جس سے یقیناً مولانا بری ہوجائیں گے، اَب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یا تو لال مسجد والوں نے ججز کو رشوت دی ہے یا پھر مشرف ہاؤس سے لگائے گئے مقدمات من گھڑت تھے یا پھر اس سارے معاملے کے پیچھے بقول چوہدری شجاعت کے کوئی تیسر ی طاقت تھی۔جسکی وجہ سے ساتھ ہزار بیگناہ معصوموں کا خون بہا دیا گیا۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مشرف کے حواریوں نے لال مسجد سے برآمد ہونیوالے ماٹر گولے، سٹین گنیں، دستی بم، جی تھری، راکٹ لانچر، طیارہ شکن میزائل عدلیہ کو کیوں نہیں دکھائے ؟ آخر کس بنیاد پر مشرف کی عدلیہ نے مولانا عبدالعزیز جیسے دہشت گرد کو رہا کر دیا؟

یا تو وہ ماٹر گولے، سٹین گنیں، دستی بم، جی تھری، راکٹ لانچر، طیارہ شکن میزائل فوجی بیرکوں سے لاکر وہاں رکھے گئے تھے یا پھر موجودہ عدلیہ قابل اعتبار نہیں؟ آپ ہی بتائیں ایسی عدلیہ پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے جو اتنے بڑے دہشت گرد کو رہا کر دے۔جس نے پی ٹی وی پربرقہ پہنے خود اقبالِ جرم کیا۔پتا نہیں اِس ملک میں اقبالِ جرم کرنیوالوں کو رہا کیوں کر دیا جاتا ہے۔ دیکھیں نہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پوری دنیا کے سامنے اپنا جرم قبول کیا اور اَب اُنکو بے قصور قرار دے دیا گیا۔مجھے نہ تو آج تک اِس ملک کے مجرموں کی سمجھ آئی ہے اور نہ منصفوں کی۔

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب ۔۔۔۔۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی

آج کے حالات 1971سے مختلف نہیں ہیں اُسوقت بھی پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار بھٹو نے ذاتی مفاد کی خاطر ایک لاکھ ساٹھ ہزار مسلمانوں کو بنگلہ دیش کے نام پر شہید کروا کر اِس ملک کے دوٹکڑے کیے تھے اور شاید اَب کی بار اُن کے داماد اپنے ذاتی مفاد کی خاطرسسر کی سنت کو پورا کرنے جا رہے ہیں، جسطرح بھٹو ایک جنرل کی گود میں پناہ لیے ہوئے تھے ٹھیک اُسی طر ح آج اُنکا داماد ایک جنرل کی گود میں پوری پارٹی سمیت پناہ تلاش کر رہا ہے۔ا للہ نہ کرے کہ پاکستان ٹوٹے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔اللہ سے دعا کریں اللہ اِس ملک کی حفاظت فرمائے۔ آمین

Written by Editor

Posted in Pakistan News