Japan      Pakistan     London      Washington  
Fax : 81-285-287962
EMail : awazehaq1@gmail.com
EMail : rana@kni.biglobe.ne.jp
          

Awaz-e-Haq

فیصلہ ہم نے کرنا ہے ۔تحریر ۔ رانا عابد محمود

leave a comment

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں پوری دنیا کی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی اکسیویں صدی میں قدم رکھ چکی ہیں اور ہمارے ملک میں میر جعفر اور میر صادق کے جانشین پورے کروفر کے ساتھ موجود ہیں جو ہمیں ایک قوم نہیں بننے دینا چاہتے اور ہر لمحہ ہمارے پیارے وطن کی جان کے درپے ہیں اور پاکستان کے ہر اول دستے کے طور پر ہمارے سروں پر مسلط ہیں ۔
یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان مظبوط ہو اور اسلامی دنیا میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے یہود و نصاری کے شکنجے سے تمام مسلم ورلڈ کو آزادی دلا سکے۔
قیام پاکستان کے فوراُ بعد پاکستان دشمن قوتوں نے ملک کے غداروں کو تلاش کرنا شروع کر دیا اور ہماری یہ بد قسمتی ہے کہ انہیں یہ کردار باآسانی ملتے چلے گئے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی موت جن حالات میں ہوئی پوری قوم جانتی ہے اگر ان حالات کے بارے میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے فوراُ بعد ہمارے عظیم مایہ ناز اور دیانتدار لیڈروں کو مارنے کی منصوبہ بندی شروع ہوگئی ۔
قائد اعظم کے بعد لیاقت علی خان کوبھی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا اور اس کے بعد پاکستان دشمن قوتوں نے اپنے مہرے بچھانے شروع کر دئے اور آخر کار جمہوریت کا پہلا قتل ایوب خان نے کیا اور پاکستانی تاریخ کے اوراق میں پہلا عامر کہلوایا۔دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں اس دن ہمارا سر جھک گیا، اس آمر نے جمہوری قدروں کو پامال کرتے ہوئے ملک کو آمریت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا اور بدقسمتی کی انتہا دیکھیے ، عدالتیں جو ملک جو ملک کے وجود کی نگراں اور آئین کی محافظ ہوتی ہیں اسی عدالت کے ایک جج نے جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کی بھونڈی اور مردہ دلیل سے ایوب خان کے ہر غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو قانونی جواز فراہم کیا۔
جس معاشرے میں قانون اور انصاف نہ ہو وہ قومیں غلام بن کر رہ جاتی ہیں اور دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں ۔
جب ایوب خان ہمارے ملک کو بے دست و پا کر چکا تو ہمارے وطن دشمنوں کے لئے وہ بے کار ہوچکا تھا اور پھر سادہ لوح عوام کو اس کے پیچھے لگا دیا گیا۔غریب عوام کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کھیل کب اور کس نے شروع کیا اور کب کھلاڑی تبدیل ہونے والا ہے۔
جو ہمیں دکھایا جاتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہونے والا ہوتا ہے اس کا ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے ۔کوئی بھی آمر یہ نہیں چاہتا کہ اقتدار عوامی نمائیندوں کے حوالے کرے کیونکہ اس میں اُس کی موت ہوتی ہے اور ایون خان نے بھی اقتدار یحیی خان کے حوالے کر دیا جو ہامری تاریخ کا بزدل ترین جرنیل تھا۔کسی بھی ملک کی فوج تو اس کی سرحدوں کی محافظ ہوتی ہے اور اپنی جانیں ملکی دفاع پر قربان کر دیتے ہیں لیکن یہ جرنیل اپنی انا اور ضد کی خاطر ملک کو قربان کرتے چلے گئے ۔
سقوطِ ڈھاکہ جیسی ذلت آمیز شکست ہماری آنے والی نسلیں بھی نہ بھلا پائیں گی ، ١٢ سالہ آمریت کے بعد بچا کھچا ملک عوامی نمائیندوں کے حوالے کر دیا گیا اور ٢٦ سال بعد ہمیں ہمارا آئین ملا اور سیاسی دور کا دوبارہ آغاز ہوا اور اسی سیاسی دور میں ذولفقار علی بھٹو نے ہمارے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ۔ ملک دشمن عناصر کو یہ کب منظور تھا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر چل سکے۔
صرف پانچ سال ہی بعد ہی تیسرے آمر نے عنان اقتدار پر قبضہ کر کے عوامی نمائیندوں کو جیل میں ڈال دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو ایک متنازعہ کیس میں پھانسی دے دی گئی اور آمر غریب عوام کو ١١ سال تک اسلام کے نام پر بےوقوف بناتا رہا اور آخر وہ بھی اپنے انجام کو پہنچا اور جہاز کے حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔
١١ سال بعد پھر ہمارے سیاسی دور کا آغاز ہوا ، بینظیر بھٹو اقتدار میں آئیں لیکن طاقتور اسٹیبلیشمنٹ کا مقابلہ نہ کر سکیں اور انہیں حکومت سے فارغ کر دیا گیا ۔
پھر اللہ تعالٰی کو اس غریب اور دکھوں کی ماری قوم پر رحم آیا اور قائداعظم کے بعد جو عوامی امنگوں کا ترجمان بنا وہ میاں نواز شریف تھے ۔ دیانتدار ، ندر ، بے باک اور غریب عوام کو سینے سے لگانے والا ، پھر کیا تھا ملک میں جیسے بہار آگئی اور غریب عوام اسی خوشی میں اپنا سب غم بھول کر میاں نواز شریف کی قیادت میں متحد ہوگئے ۔ میاں صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ہمارے ملک میں معاشی ترقی کا آغاز ہوا ، زرائع مواصلات کے شعبہ نے بے پناہ ترقی کی ، زرائع مواصلات کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔
موٹروے ،بے روزگار سکیم ، ییلو کیب سکیم ، عام لوگوں کو آسان اقساط پر قرضے ، چھوٹی صنعتوں کا فروغ ، ٹیکس فری زون غرض ہمارا ملک ایک دفعہ پھر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے جنت بن گیا اور میاں نواز شریف نے لگاتار پانچ ایٹمی دھماکے کر کے ملک کی سرحدوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ بنا دیا ۔یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس پر عالم اسلام میں کوشی کی لہر دوڑ گئی اور بلاشبہ وطن عزیز عالم اسلام کو لیڈ کرنے کے قابل ہوا ۔
لیکن ملک دشمن عناصروں اور ملک کے غداروں کو یہ کب منظور تھا اور آخر ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کی وہ سیاہ رات جو ہماری قوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی ، جب ملک کے ہر دلعزیز اور دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کی حکومت کو اس ملک کے چوتھے آمر اور ملکی سطح پر قابل نفرت انسان نے شب خون مار کر لوٹ لیا اور جس آئین کا اس نے حلف اٹھایا تھا اسی آئین کی اس نے دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ۔
میاں نواز شریف کو ان کے عظیم کارناموں کی وہ وہ سزا دی جس کا مہذہب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور آخر کار جلاوطن کر دیا گیا ،اور پھر اس آمر نے ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کیا کہ شاید چنگیز خان بھی پیچھے رہ گیا ہو ۔وطن عزیز کو پوری دنیا میں دہشت گرد ملک بنا کر رکھ دیا اور ہماری قوم کو اقوام عالم میں ایک ناکام قوم بنانے کی پوری کوشش کی تاکہ غیر ملکی آقاؤں کی آشیرباد حاصل کی جاسکے اور اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقتدار کو طول دے سکے تاکہ وہ اسے اپنے لئے ناگزیر سمجھیں۔
پرویز مشرف کے اس جرم میں وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے تمام حواری بھی برابر کے شریک ہیں ۔
قبائلی علاقے سوات اور وزیرستان کو میدان جنگ بنا دیا گیا اور فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کر دئے گئے ۔
لال مسجد ، جامعہ حفظہ اپریشن میں کمسن اور معصوم بچیوں کو فاسفورس بموں سے جلا کر راکھ کر دیا گیا ، مسجد اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی ، یہ سب کسی غیر مسلم نے نہیں بلکہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے نے کیا جو فخر سے کہتا ہے کہ میں نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر آذان دی ہے ۔
آٹھ سال پرویز مشرف نے بڑی کوشش کی کہ عوام کے دلوں سے میاں نواز شریف کی محبت کو ختم کردے لیکن وہ سولہ کروڑ عوام میں سے کسی ایک دل سے بھی میان نواز شریف کی محبت کو ختم نہیں کرسکا اور پھر ١٨ فروری ٢٠٠٨ کو اللہ تعالٰے نے اپنے فضل و کرام سے ظلم و جبر کی لمبی سیاہ رات کو ختم فرمایا اور قاتل لیگ کو تاریخی شکست سے دوچار کیا ،پرویز مشرف کو دس دس دفعہ وردی میں منتخب کرنے والے ایسے زمین بوس ہوئے کہ دنیا نے دیکھا اور پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو فتح نصیب ہوئی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت کے مطابق اپنی حریف جماعت کے ساتھ مل کر گورنمنٹ بنائی۔
آج پرویز مشرف ذِلت و رسوائی کی حدوں کو چھو رہا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے میاں نواز شریف عزت و وقار کے ساتھ ہر دل کی دھڑکن بن گیا ہے اور ٩٩ فیصد عوام میاں نواز شریف کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور پرویز مشرف کو اس کے بے حساب گناہوں کی سزا دینا چاہتے ہیں ۔عوام سے انصاف چھننے ، عدالتوں کو تباہ کرنے ، ملک میں دو دفعہ ایمرجنسی لگانے ، عوام کا قتل عام کرانے کے جرم میں ، عوام اس کو محفوظ راستہ نہیں بلکہ عبرتناک سزا سے ہمکنار کروانا چاہتے ہیں۔
حق و باطل کا یہ معرکہ قیام پاکستان سے شروع ہے اور انشااللہ فتح حق کی ہو گی ۔ آج وقت ہے اللہ تعالٰے نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم حق و سچائی کا ساتھ دیں اور باطل و برائی کو رد کردیں ۔
آج ملک وقوم اور مذہب کا محافظ کون ہے اس کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے اور اگر آج ہم خاموش رہے تو شاید ہمیں پچھتانے کا موقع بھی نہ مل سکے ۔بلاشبہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ذات تو صرف اللہ تعالٰے کی ہے جو وحدہ لا شریک ہے لیکن وہ انسان بھی قوموں کی تاریخ میں زندہ رہ جاتے ہیں جو اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں اور قول کی نگہبانی ، قانون کی علمداری اور غریب عوام کے دکھوں کا اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔
البتہ فرعون ، نمرود ، عبداللہ بن ابی وغیرہ عبرت کے نشانوں کے طور پر ہمیشہ نفرت کی مثال بنے رہیں گے اور پرویز مشرف بھی انشااللہ عبرت کا نشان بنے گا اور انہی میں شمار کیا جائے گا۔

Written by Editor

Posted in Pakistan News