سیچوان کا معنی بنتے ہیں چار دریاؤں کی سرزمین ، چین کے اس علاقے میں زلزلے نے بستیاں الٹ دی ہیں ، اموات کی تعداد چار ہزار سے زیادہ بتائی جارہی ہے اور متاثر ہونے والوں کی تعداد ہے پچاس لاکھ، جی ہاں ، پچاس لاکھ یعنی آدھا کروڑ ۔
آج کی خبر تھی کہ ایک سو اناسی گھنٹوں کے بعد ایک الیکٹریشن کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے ـ یعنی امدادکا کام جاری ہے ناں کہ ہماری طرح زلزلے کو چار دن ہو گئے ہیں اب کسی کے بچنے کی امید نہیں ہے اس لیے اب مرنے والوں کی فاتحہ پڑھ لیں ۔
سیچوان کی چار دریاؤں کی سرزمیں کے زلزلے نے یہاں جاپان میں میڈیا کی توجہ حاصل کی ہوئی ہے ایک تو نزدیکی ملک ہونے کی وجہ سے اور دوسرا زلزلوں کا ملک ہونے کی وجہ سے اور تیسری وجہ ہے کہ جاپان چین کو ایک ابھرتے ہوئے حریف کے طور پر دیکھتا ہے ۔ پہلے پہل تو جب تک زیادہ اموات کی خبریں نہیں تھیں جاپانی میڈیا اپنے لوگوں کو زلزلوں کے دوران اختیار کرنے والی حفاظتی تدابیر یاد کرواتا رہا ، جب جب اموات کی خبریں آنے لگیں تو سیچوان والوں کے دکھ کو محسوس کیا جانے لگا ، لیکں جاپانی لوگوں کا تاثر یہ تھا کہ چین اس مصیبت میں اپنے لوگوں کو سنبھال بھی سکے گا یا نہیں ، لیکن آفرین ہے چارآبی لوگوں پر کہ پنجابیوں کی طرح نہ نکلے بلکہ انتہائی منظم طریقے سے اس مصبیت میں بھی اتظامات کر لیے ہیں ۔ابلے ہوئے چاولوں پر ابلی ہوئی سبزی ہی سہی لیکں سب بچ جانے والوں کو دی جارہی ہے کوئی افراتفری نہیں ہے ۔خدائی فوجدار (ولینٹئیر) لوگوں نے کتنے ہی کام سنبھالے ہوئے ہیں ۔
جراثیم کش دوائیوں کا چھڑکاؤ کیا جارہا ہے چین کے فوجی بہت کام کررہے ہیں جین کی فوج جو کہ پاک فوج کی طرح اپنے ملک پر کبھی بھی قابض نہیں ہوئی لیکن اپنے لوگوں کے لیے کام کررہی ہے ۔کسی بھی ٹی وی پر کسی بھی جرنیل کو نہیں دکھایا جارہا ۔
جاپان سے ڈاکٹر اور نرسیں چین پہنچ گئی ہیں اور بھی کتنی ہی امداد ، جاپانی میڈیا اب چین کے امدادی کاموں کو تنقیدی انداز میں دیکھا رہا ہے
کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ چین جاپان جیسا منظم ملک نہیں ہے ، لیکن پھر بھی چین جیسا کررہا ہے ان سے جاپانی میڈیا غیر مطمعین بھی نہیں ہے ، اور دوسری طرف برما میں سائکلون آیا تھا جس میں بھی ایک لاکھ اموات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے لیکن برما میں بھی فوج کی حکومت ہے اور ان فوجی حکومتوں کا مزاج بھی اپنی ترکیب خاص ہی ہوتا ہے۔اگر ان فوجی حکمرانوں میں غیرت نام کی کوئ چیز ہو تو اپنے ہی ملک پر قبضہ کیوں کریں ؟؟
برما کے ڈکٹیٹر صاحب نے پہلے تو غیر ملکی امداد پر یہ قدغن رکھی کہ امداد تو لیں گے مگر امدادی نہیں ، جاپان میں ایک ویڈیو ٹی وی پر دیکھایا گیا کہ جب غیر ملکی امداد برما پہنچی تو سب سے پہلے تو فوجی جوان ہی ان پیکٹوں کو کھول کھول کر کھانے لگے اور ولائیتی پانی کی بوتلوں سے پیاس بجھانے لگے ۔ ہاں ان ڈکٹیٹروں کی بہادر فوج ہر ملک میں ایک ہی جیسی ہوتی ہے ۔
پاکستان میں بھی سارے رقبے اور سارے پلاٹ پاک فوج کے ہیں، اور آج پھر ٹی وی پر دیکھایا جارہاتھا کہ برما کی بہادر فوج امدای سامان کو ٹرک پر لادھ کر جس پر کہ کیمرہ بھی لگا ہے اس ٹرک سے سامان لوگوں کی طرف ایسے پھینک رہی ہے جیسے جانوروں کے آگے ،
لوگ بھالے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور برما کے بہادر فوجی ان کی ویڈیو بنا کر لیں گے کہ ڈکٹیٹر صاحب کو دیکھائی جائے گی ۔
مجھے یہ ویڈیو دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ لوگوں کو ذلیل کر کے ان ڈکٹیٹر لوگوں کی کون سی رگ کی تسکین ہوتی ہے ؟؟
چین اور برما کا یہ تقابل ڈکٹیٹر شب اور جمہوریت کا تقابل بھی ہے یہ پنج دریاؤں اور چار دریاؤں کا بھی تقابل ہے
ڈکٹیٹر پاکستانی ہو یا برما کا یا کسی بھی ملک کا یہ بڑے بزدل ہوتے ہیں ۔ اتنے بزدل کہ کسی کو بھی پنپتا دیکھ ہی نہیں سکتے ، کہ کہیں کسی دن آگے ہی نہ آجائے اور سب سے بری بات ان میں یہ ہوتی ہے کہ اس ملک کو بھی پنپتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے جس پر یہ قابض ہوتے ہیں ۔
نہیں تو دیکھ لیں اپنے پاکستان کا حال ، ان بہادر کہلوانے والے بزدلوں نے کیا کیا ہے ؟؟؟





















