١٧ ویں ترمیم پر ناجائز مراعات لینے والوں کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کو گھر بیٹھنے کا مشورہ دینے کا کوئی حق نہیں
معزول چیف جسٹس کے ترجمان کا مولانا فضل الرحمن کے بیان پر رد عمل
اسلام آباد ۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جے یو آئی ف کے سر براہ مولانا فضل الرحمن ناجائز مراعات کے حصول ،سرکاری زمینیں اپنے نام کروانے اور ڈوگر کورٹ کے ذریعے اپنے بھائی کو قومی اسمبلی کارکن بنوانے کی وجہ سے آزاد عدلیہ کا قیام نہیں چاہتے لیکن 17 کروڑ عوام آزادمنش عدلیہ چاہتے ہیں مولانا فضل الرحمن کی طرف سے معزول چیف جسٹس کو گھر بیٹھنے کامشورہ دینے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اطہر من اللہ نے کہا کہ 18 فروری کے انتخابات سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جہاں بھی گئی مولانا اور ان کی جماعت کے کارکنوں نے ان کا بھر پور استقبال کیا مولانا چیف جسٹس کی تقریباً تمام پیشیوں کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر موجود ہوتے تھے مولانا واضح کریں گے کہ اس وقت وہ وہاں پر کیا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے کارکنوں سمیت آتے تھے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ سترہ کروڑ عوام جس وجہ سے پس رہے ہیں ان کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں ان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ملک میں لاقانونیت ہے وہ اس کے خلاف بات کریں اور آزاد منش اور نڈر و بہادر ججوں کو گھر بیٹھنے کا مشورہ دیں اطہر من اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن بڑے باپ کے بیٹے ہیں اس شخص کے فرزند ہیں جس نے اپنے ہاتھوں سے اس آئین پر دستخط کیے انہیں تو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر وکلاء تحریک کا حصہ بنیں اور آزاد عدلیہ کے قیام میں معاونت کریں لیکن وہ اپنے آباؤ اجداد کی روایات سے ہٹ کر باتیں کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کس طرح آزاد ججوں اور عدلیہ کو قبول کریں گے جب وہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر سرکاری زمینیں اپنے اہلکاروں کے نام الاٹ کروانے میں ملوث ہوں اور 17ویں ترمیم کو منظور کروانے کے عوض مراعات لیں ان کو آزاد عدلیہ کی ضرورت قطعاً نہیں ہو سکتی مولانا نے اپنے بھائی کا کیس ڈوگر کی عدالت سے کلیئر کروایا اس لئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی مخالفت کر کے وہ اپنا حق ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کے حالات ایسے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اپنے گھر تک نہیں جا سکتے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لاقانونیت ہے اور آئین کا احترام ختم ہو چکا ہے اگر آزاد عدلیہ قائم ہو جاتی ہے تو مولانا کا گھر جانا آسان ہو جاتا اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمار ی جدوجہد اسی لئے ہے کہ تین نومبر کے اقدامات واپس کیے جائیں تا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین و قانون کی صحیح معنوں میں بالادستی قائم ہو سکے اور آئندہ کسی طالع آزما کو آئین و قانون توڑنے کی جرات نہ ہو سکے انہوں نے کہا کہ مولانا ملک کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر رکھنا چاہتے ہیں آزاد عدلیہ مولانا کی ضرورت ہے اور نہ ہی آئین کی بالادستی کی یہ صرف غریب عوام کی ضرورت ہے جو نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں تا کہ قانون سب کے لئے برابر ہوا اور مولانا سمیت تمام لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے
Posted by Editor as Pakistan News at 10:22 PM JST























