Skip to main content.
پی آئی اے کی غنڈہ گردی ، جاپان جانے والے مسافروں کو زبردستی جہاز سے اتار دیا گیا جاپان میں پاکستانی کیمونٹی کے اتحاد کا عملی مظاہرہ عہد فاروقی ہر لحاظ سے تاریخ اسلام کا زرّین عہد ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے اور ان پر نگاہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ۔کانفرنس سے خطاب وزیراعظم کو نہیں ہٹایاجا رہا ۔ ترجمان ایوان صدر عدالتی فیصلے کے باوجود حکومت فرح حمید ڈوگر کے معاملے پر کارروائی نہیں ہونے دے رہی، عابد شیر علی لاہور کینٹ میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف خواتین اور بچوں کا مظاہرہ ، ٹریفک کا نظام معطل ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، مسلح افواج کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے جارہے ہیں، یوسف رضا گیلانی بھارت اپنی فوج امن کی پوزیشنوں پر لے جائے اور فارورڈ بیسز سے طیارے ہٹا لے تو تناؤ میں مزید کمی ہو گی، شاہ محمود قریشی ملک میں جاری بجلی کا بحران،صنعتیں زوال کا شکار ہونے لگیں آزاد خطہ میں نمائشی حکومت قائم ہے ۔ خطے کاکوئی والی وارث نہیں ہے ۔ سردار سکندر حیات خان عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں وکلاء برادری کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
Pages: 1 2 3 4 5 ... 10
September 3rd, 2008   

کام کرنے سے دماغ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے

تحقیق سے متعلق نوکریاں انسانی ذہن کو تیز رکھتی ہیں ‘ ماہر نفسیات ڈیوک پاٹر

واشنگٹن ۔ آرام کی غرض سے دفتر سے چھٹی لینا اکثر لوگوں کو پسند ہے مگر ایک جدید سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغی کام کرنے والے افراد کو فائدہ اس میں ہے کہ وہ چھٹی لینے کی بجائے دفتر میں کام کریں ،کیونکہ اس سے ان کی دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کے کئی سال نوکری کی مصروفیات میں صرف کرتے ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق تنخواہ کے علاوہ بھی نوکری کے کئی فوائد ہو سکتے ہیں۔ ڈیوک یونیورسٹی کے نفسیاتی ماہر گائے پاٹر انسانی دماغ پر سائنسی تحقیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دماغ کو استعمال میں نہ لاجائے تو اس کی صلاحیتوں میں کمی آجاتی ہے۔ پاٹر کے مطابق ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ تعلیم اور ذہانت کا جو بھی درجہ ہو، دماغ کو مسلسل طور پر مصروف رکھنے والے پیشوں کے طبی اور نفسیاتی فوائد بڑھاپے میں بھی نمایاں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ ایسی نوکریاں انسانی ذہن کو تیز رکھتی ہیں جن میں تحقیق یا آرگنائیزیشن درکار ہو ، یا مستقل طور پر نئی صورت حال کا سامنا کرنا ہو۔ پاٹر اور ان کے ساتھیوں نے دوسری جنگ عظیم میں شریک ہونے والے ایک ہزار سے زائد ویٹرنز پر تحقیق کی، جنہوں نے فوج میں بھرتی ہونے سے پہلے انٹیلی جنس ٹیسٹ دیئے تھے۔ ساٹھ سال کی عمر سے یہ افراد باقاعدگی سے ذہانت کی جانچ کرنے کے ٹیسٹ میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے کئی افراد جنہوں نے جنگ کے بعد ایسے پیشے اپنائے جن میں ذہنی کاوش زیادہ درکار تھی، اپنی جوانی کے انٹیلی جنس سکور سے بہت آگے جا چکے ہیں۔ اس کے برعکس جسمانی محنت مشقت والے پیشے اپنانے والوں کے سکور عمر کے ساتھ ساتھ گھٹتے گئے۔ پاٹر کا کہنا ہے کہ گو جسمانی مشقت کے اپنے فوائد ہیں،تاہم کا م کی نوعیت کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ عموما ایسی نوکری ذہن کے لیے فائد مند نہیں ہوتی جس میں ایک ہی کام کو بار بار دہرانا پڑے۔ اس کے برعکس، مسائل حل کرنے اور نئے کام سیکھنے سے دماغ کو زیادہ فائدہوتا ہے۔ ذہنی قابلیت پر پیشے کی نوعیت اور عمر کے اثرات کا جائزہ لینے والا یہ پہلا سائنسی مطالعہ ہے۔ پاٹر کا کہنا ہے کہ ذہنی مشقت والے پیشوں کی مدد سے ڈیمینشیا اور آلزائمر جیسی بیماریوں کا علاج تو نہیں جا سکتا، لیکن ان کے اثرات کو بڑھنے سے روکا ضرور جا سکتا ہے۔

Posted by Editor as Medical & Health at 1:52 AM JST

تبصرہ کریں »

| |
Pages: 1 2 3 4 5 ... 10
国際ニュース  パキスタンニュース  日本のニュース  アワーゼ・ハックニュース