کراچی میں اندازاً ایک لاکھ افراد مرگی کا شکار ہیں
علاج کے لیے رجوع کر نے والے ستر فیصد افراد کامیاب ہو تے ہیں
آغا خان یونیورسٹی میں منعقد کیئے گئے مرگی سے متعلق آگاہی سیمینار سے ماہرین کا خطاب
کراچی ۔کراچی میں اندازاً ایک لاکھ افراد مرگی کا شکار ہیں تاہم شہری علاقوں کے ایک جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے صرف ایک چوتھائی طبی علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں۔آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کی کنسلٹنٹ نیو رو لو جسٹ فوزیہ صدیقی نے یہ بات مرگی کے دن کے موقع پرعوام کی آگاہی میں اضافہ کے لیے اے کے یومیں منعقد کیے جانے والے سیمینار میں حاضرین کو بتائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس مرض کو بدنامی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ عورتیں اور بچے مرگی سے متعلق شرمندگی اورغلط فہمیو ں کی وجہ سے سب سے زیادہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مرگی ایک ایسی اعصابی خرابی ہے جس میںبرقی ڈسچارج علاماتی دوروںکا باعث بنتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او ) کے مطابق دنیا بھر میں ایک وقت میں پانچ کروڑافراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ دی ایپیلیپسی فاؤنڈیشن کے مطابق تمام بالغ افراد میں سے دس فیصد اپنی زندگی میںکبھی نہ کبھی مرگی کے دورے کا شکار ہوسکتے ہیںتاہم اس بیماری کی تصدیق دو یا اس سے زیادہ دوروں کے بعد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اے کے یو میںمرگی کے دن کا ایک بڑا حصہ مرگی کے علاج کے مختلف طریقوں کے لیے مختص کیا گیا تھا کیوں کہ ڈبلیو ایچ او کے اندازے کے مطابق علاج کے لیے رجوع کر نے والے ستر فیصدافراد کامیاب ہو تے ہیں۔اے کے یو کے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر مغیث شیرانی نے یونیورسٹی ہسپتال میں موجودمرگی پروگرام کی اہم خصوصیات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام مرگی کا جامع علاج فراہم کرتا ہے جس میں ایسے مریضوںکی سرجری کے لیے جانچ بھی شامل ہے جو طبی طریقہ علاج میں ناکام ہو چکے ہیں۔ایک اعلیٰ معیار کے جدید ایپلیپسی مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ ساتھ، ویڈیو ای ای جی سہولت کی مدد سے ، عملہ مرگی کے دوروں کے تجزیے اور ان کوسنبھالنے میں مدد کرتا ہے۔ اے کے یو میں موجود ویڈیوای ای جی، پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی اور نایاب سہولیات میں سے ایک ہے جو مرگی کی سرجری کو موثر بنانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ڈاکٹر مغیث شیرانی نے حاضرین کو بتایا کہ اس ہفتہ اے کے یو ایچ میںاس پروگرام کے تحت پہلی کامیاب سرجری کامیابی سے کی گئی ہے۔یونیورسٹی آف ایلبرٹا ، کینیڈاکے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر نظام احمدنے کہا کہ مرگی کے علاج کے لیے کئی مختلف طریقہ کار موجود ہیں اور اس کے ستر فیصدکیسزپر مناسب تشخیص اور علاج کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے۔وہ مریض جن کا مرض دوائیوں کے ذریعے قابو میںنہ آئے ان کے لیے سرجری کا طریقہ موجود ہے۔ڈاکٹر سید اطہر انعام نے “سرجری کے ذریعے مرگی کا علاج “کے حوالے سے کہا کہ اس عمل میںسرجری کے ذریعے دماغ کے ان حصوںکو نکال دیا جاتا ہے جو اکثر دوروں کا سبب بنتے ہیں۔ تجویز کردہ دواؤں کی ناکامی کی صورت میں سرجری کا یہ طریقہ نصف صدی سے اگلے قدم کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے اور اب بہتر ٹیکنالوجی کی وجہ سے زیادہ استعمال میں ہے۔اے کے یو کے کنسلٹنٹ سائیکیاٹرسٹ ڈاکٹر عبدالوہاب یوسف زئی نے مرگی کی وجہ سے مریض اور اس کے خاندان پرپڑنے والے نفسیاتی اثرات کے بارے میں بتایاکہ اس اعصابی خرابی کی وجہ سے گھر اور کام کی جگہ پرموافقت پیدا کرنے میںمسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا ایک مریض پرپڑنے والے ذاتی اثرات کا جائزہ لینا اور ایک ایسے ماحول کا فروغ ضروری ہے جہاں مرگی کے مریض صحت مند اور خوشگوار زندگی گزار سکیں۔لیکچر کے بعدمقررین اور پینل میں شامل اے کے یو کے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹربھوجو کھیلانی اور ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کے مہمان نیوروسرجن وارن ڈبلیو بولنگ نے حاضرین کے سوالات کے جوابات دئیے اور اس امید کا اظہارکیا کہ عوام کو مرگی کے علاج اور خطرات سے متعلق زیادہ آگہی حاصل ہوئی ہے۔ اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ’آثار، علامات اور علاج‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 3سو سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 50ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ 1986ء میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم30لاکھ سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے
Posted by Editor as Medical & Health, Pakistan News at 12:25 AM JST























