ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے موقع پر سیکرٹری ماحولیات نمائندہ یونیسیف (ڈبلیو ایچ او ) کی مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔ پاکستان میں 80 فیصد بیماریوں کا پینے کے گندے پانی ، نکاسی آب کے ناقص نظام اور صحت کی ناکافی سہولتوں کے باعث ہوتی ہیں جن سے لاکھوں بچے سالانہ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو سالانہ 112 ارب روپے کے خطیر اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اس امر کا اظہار ہاتھ دھونے کے عالمی دن کے موقع پر سیکرٹری وزارت ماحولیات خوشنود لاشاری یونیسیف کے نمائندے مارٹن موگونجا ڈبلیو ایچ او کے نمائندے خالف بلے اور پراکٹر اینڈ گیمبل کی منیجر ناجیہ آمین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری ماحولیات نے کہا کہ ملک میں حفظان صحت کے محفوظ اصولوں اور ہاتھ دھونے کے رجحان کے فروغ کے لئے حکومت پاکستان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 80 فیصد بیماریوں کا تعلق پینے کے گندے پانی ، نکاسی آب اور حفظان صحت کی سہولتوں کے فقدان سے ہے جس سے ہیضہ اور دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن سے ہر سال دنیا میں 15 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر میں مرنے والے گیارہ فیصد بچے ہیضہ کا شکار ہوتے ہیں جبکہ عالمی بینک کے جائزے کے مطابق پانی کی ناقص سپلائی ، ناقص نکاسی آب اور غیر معیاری حفظان صحت کے باعث حکومت پاکستان کو سالانہ 112 ارب روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں ان میں سے صرف ہیضے کی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے کے فنڈز خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ناقص نکاسی آب اور غیر معیاری حفظان صحت بوسیدہ وائرس کی روک تھام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جس کے باعث آج بھی پاکستان میں پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے 70 ممالک میں ہاتھ دھونے کا پہلا عالمی دن منایا جا رہاہے جس کا مقصد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک کرنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان اس حوالے سے کافی سرگرمی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور خصوصاً دیہی علاقوں میں زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔ اس موقع پر یونیسیف کے نمائندے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیضہ بچوں کے لیے دوسری بڑی مہلک بیماری ہے جو گندے پانی کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے اور اس سے سالانہ 15 لاکھ بچے مر جاتے ہیں اس طرح نمونیہ سے سالانہ 20 لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ دائی اور ماں کی طرف سے صابن سے ہاتھ دھونے سے 44 فیصد بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات اور قدرتی وسائل سے نقصان سے پاکستان کو ایک ارب روپے روزانہ کا نقصان ہوتا ہے ۔ اگر پانی کی سپلائی اور نکاسی آب اور حفظان صحت کی مناسب سہولتیں میسر ہوں تو نہ صرف روزانہ ایک ارب روپے نقصان ہونے سے بچ سکتے ہیں بلکہ 30 کروڑ روپے روزانہ بچائے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ دھونے سے بچوں کی بیماریوں پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے اس حوالے سے یونیسیف ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ۔تاکہ پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکے ۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے نمائندے خالف بلے نے کہا کہ مناسب اور معیاری طریقے سے صابن کے ساتھ ہاتھ دہونے سے ہم 11 فیصد ہیضے اور 25 فیصد نمونیا کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں اور سالانہ 50 ہزار بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے روک سکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ صابن سے ہاتھ دھونے کی عادت سے ہم ویکسین اور طبی سہولتوں کی نسبت زیادہ حانوں کو بچا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس پائے جاتے ہیں اور اس کے لیے پاکستان کو اب بھی پولیو فری ملک قرار نہیں دیا جا سکتا
Posted by Editor as Medical & Health at 11:14 PM JST























