٭۔ ۔ ۔ ماضی میں پارلیمان اور جمہوریت دھبہ بننے والی قرار دادوں کی نفی اور مذمت کیلئے ایوان میں قرار داد لائی جائے گی
٭۔ ۔ ۔ کمشنرز کی بحالی کا مسودہ قانون منظوری کے لئے بدھ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل اور چیئرمینوںکے انتخابات جلد ہو ں گے اور کابینہ میں توسیع عید کے بعد ہو گی
٭۔ ۔ ۔ تالہ بندی کا کوئی جواز نہیں، بعض عناصر اس پر امن اور با مقصد تحریک میں تشدد لانے کی خواہش رکھتے ہیں
٭۔ ۔ ۔ مسلم لیگ ق کوئی جماعت نہیں ، موجودہ ممبران ن لیگ کا حصہ تھے ، واپس آنا چاہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا
٭۔ ۔ ۔ دہشت گردی پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن اسے اس میں ملوث کر دیا گیا ہے
٭۔ ۔ ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو ترک کر دیں تو مسلم لیگ ن حکومت کی مکمل حمایت کرے گی۔رانا ثناء اللہ پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری میں میٹ دی پریس خطاب
لاہور۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ گورنر پنجاب صوبائی حکومت کو خط نہیں لکھ سکتے۔ ان کے یہ اقدامات آئین کے منافی ہیں کیونکہ صوبائی حکومت گورنر کو نہیں بلکہ اسمبلی کو جوابدہ ہے البتہ گورنر ائین کے تحت اس امر کا پابند ہے کہ اگر کوئی صوبائی معاملہ گورنر کے پاس جائے اور وہ واپس حکومت کو بھجوادے تو دوسری مرتبہ حکومت کی طرف سے بھیجے جانے پر وہ اس کو تسلیم کرلے۔ پنجاب اسمبلی میں پریس گیلری فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں پارلیمان اور جمہوریت دھبہ بننے والی قرار دادوں کی نفی اور مذمت کیلئے ایوان میں قرار داد لائی جائے گی۔ صارف عدالتوں کے قانون سمیت دیگر اہم امور پر قانوّن سازی زیر غورہے جبکہ کمشنرز کی بحالی کا مسودہ قانون منظوری کے لئے بدھ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔ ایک ضمنی سوال پر وزیر قانون نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس اور پولیس آرڈر کو چھٹے شیڈول سے نکالنے کے لئے ملک کے تمام وزراء بلدیات کے اتفاق رائے کے بعد سفارشات صدر کو بھجوائی جا چکی ہیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل اور چیئرمینوںکے انتخابات جلد ہو ں گے اور کابینہ میں توسیع عید کے بعد ہو گی ۔ صوبائی محتسب اور پراسیکیوٹر جنرل کے تقرر کا معاملہ بھی طے پا چکا ہے ۔ پنجاب کی مخلوط حکومت میں تحفظات اور گورنر کے کردار سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ حکومتی اتحاد گورنر اور پنجاب حکومت کے مابین نہیں دو پارٹیوں کے درمیان ہے اور پیپلز پارٹی کی نمائندگی پنجاب اسمبلی میں اس جماعت کے پارلیمانی لیڈر سینئر وزیر راجہ ریاض احمد کر رہے ہیں ۔ گورنر اس معاملے میں فریق نہیں ۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تالہ بندی کا کوئی جواز نہیں اس سلسلہ میں وکلاء کی قیادت سے بات ہو چکی ہے اور بعض عناصر اس پر امن اور با مقصد تحریک میں تشدد لانے کی خواہش رکھتے ہیں جس سے وکلاء قیادت بھی آگاہ ہے ۔ ہم ایسے عناصر سے وکلاء کی قیادت سے مل کر نمٹیں گے مگر ماضی کی حکومت کی طرح وکلاء پر تشدد ، مقدمات اور پولیس کشی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اگر سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو ترک کر دیں تو مسلم لیگ ن حکومت کی مکمل حمایت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کا معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی ۔ گورنر کے آئینی اختیار میں صوبائی حکومت جوابدہ نہیں بلکہ وہ اسمبلی کو جوابدہ ہے ۔ مسلم لیگ ق کوئی جماعت نہیں اس میں موجود ممبران مسلم لیگ ن کا حصہ تھے مشرف کے دباؤ میں آکر نئی جماعت کا حصہ بنے اگر وہ اپنی پارٹی میں واپس آنا چاہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا ماسوائے ان کے جنہوں نے پارٹی کی کمر میں چھرا گھونپا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پریس گیلری کی طرف سے منعقدہ فورم اچھا قدم ہے ۔ اس فورم پر ان ممبران کو دعوت دی جائے جو اسمبلی اجلاس میں باقاعدگی سے حصہ لیتے ہوں ۔ انہو ںنے کہا کہ ہماری حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے ۔ اس کے لئے پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ، غریب بچوں کی تعلیم کے لئے فنڈز ، صحت کے حوالے سے دوائیوں کی مفت فراہمی پر کام ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ لوکل گورنمنٹ سے اختیارات چھینے جار ہے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ لوکل باڈیز کی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے رٹ قائم کرنے کے لئے انتہائی دیانتدار لوگوں کو لایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین میں گورنر کا کوئی سیاسی رول نہیں ہے ۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور سروسز ہسپتال کا معاملہ خالصتا لا اینڈ آرڈر اور ایڈمنسٹریشن کا تھا ۔ حکومت گورنر کی بجائے صوبائی اسمبلی کو جوابدہ ہے ۔ انہوں نے ہا کہ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک قومی تحریک ہے اس کو کامیاب ہونا چاہیے اگر اس تحریک میں تشدد کا عنصر آئے گا تو ن لیگ وکلاء قیادت سے بات کرے گی ۔ فارورڈبلاک کے حوالے سے انہو ںنے کہا کہ مسلم لیگ ق کوئی جماعت نہیں ہے ۔انہو ںنے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن اسے اس میں ملوث کر دیا گیا ہے
Posted by Editor in Pakistan News























