امریکیوں کی پاکستان آمد پر پابندی لگائی جائے ‘ داخلہ اور خارجہ پالیسی میڈ ان پاکستان ہونی چاہئے
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی صحافیوں سے گفتگو
راولپنڈی ۔ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملوں کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے اور امریکیوں کی اس سرزمین آمد پر پابندی عائد کی جائے ۔ پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسی خالصتاً میڈ ان پاکستان ہونی چاہئے نہ کہ میڈ ان امریکہ ہو ۔ موجودہ حکمرانوں کو 18 فروری سے جو مینڈیٹ ملا وہ اس کی لاج نہیں رکھ سکے ۔ حکمرانوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں کو ترک کرتے ہوئے مشرف کی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں جو ملک و قوم کے لئے خطرے کا باعث ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہولی فیملی ہسپتال میں ایم ایس ایف پنجاب کے صدر بابر اعوان کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایم پی اے شہر یار ریاض ‘ بیگم نجمہ حمید ‘ طاہرہ اورنگزیب ‘ ملک عدنان یعقوب ‘ ضیاء اللہ شاہ ‘ راجہ وحید محفوظ ‘ راجہ ناصر محفوظ ‘ مقبول احمد خان ‘ تنویر اختر شیخ ‘ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ عابد شاہ ‘ علی عباس ‘ پروفیسر مصدق گھمن دیگر لیگی موجود تھے ۔ بابر اعوان کو پھولوں گلدستہ پیش کرتے ہوئے صحت یابی کے لئے دعا کی ۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں گورنر پنجاب اور صوبائی حکومت کے درمیان جو اختلافات تھے اس پر گزشتہ روز آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف سے باقاعدہ رابطہ کیا ۔ ہم پیپلزپارٹی کے ساتھ مستقبل میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کے خواہاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمشنری نظام کی بحالی صوبہ اور ضلع کے درمیان رابطے کا کردار ادا کریں گے ۔ اس نظام کی بحالی سے بلدیاتی نظام ختم نہیں ہو گا او رنہ ہی ہماری حکومت اس نظام کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں 3 مرتبہ ملک کے بلدیاتی انتخابات کرانے کا سہرا ( ن ) لیگ کے سر ہے ۔ پیپلزپارٹی نے کبھی بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے مشرف نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے موجودہ نظام متعارف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ( ن ) گزشتہ 8 سالوں سے ایک موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ پاکستان میں صحیح جمہوریت آئے خود مختار خارجہ پالیسی ہو ۔ 73 ء کا آئین بحال ہو اور حکومت کا نظم و نسق صدر اور آرمی چیف کی بجائے وزیر اعظم کے پاس ہو انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں کی بجائے مشرف کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ 18 فروری کو چہرے بدل گئے نئی حکومت آ گئی مگر نظام مشرف کا چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں متفقہ قرار داد پر 11 پارلیمانی پارٹیوں نے دستخط کئے ہیں مگر اس کے باوجود قبائلی علاقوں میں امریکی بمباری جاری ہے جن کو روکنے کے لئے میں نے دو تجاویز دی ہیں کہ اگر امریکہ قبائلی علاقوں میں بمباری کرتا ہے تو اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے اور پاکستان کی سرزمین پر امریکیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کی جائے
Posted by Editor in Pakistan News























