اراکین کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی معطل
رضا ربانی کی درخواست پر غیر پارلیمانی الفاظ حذف کر دئیے گئے
اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی میں جمعہ کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر تنقید کے نتیجے میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان جھڑپ اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہو گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے کیپٹن ( ر ) محمد صفدر کی جانب سے صوبہ سرحد کاصوبہ پختونخواہ کے نام کی مخالفت پر عوامی نیشنل پارٹی کے رکن پرویز مشرف کے نکتہ اعتراض پر کہاکہ صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرار داد پر کیوں اعتراض کیا جارہاہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دس سالوں تک نواز شریف کے پاؤں چاٹتے رہے۔ نواز شریف بھی آٹھ دنوں تک جیل میں رہنے کے بعد ملک ، انہیں تنہا چھوڑ کر ملک سے چلے گئے۔ اے این پی کے فاضل رکن کی تنقید پر پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور مطالبہ کیا کہ انہیں بھی بولنے کی اجازت دی جائے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن کیپٹن ( ر ) صفدر کو فلور بولنے کے لیے دیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چارسدہ میں دھماکے کے وقت یہ لوگ لندن چلے گئے تھے۔ یہ لوگ کئی سالوں تک روس سے وظیفہ لیتے رہے اور اس کے پاؤں چاٹتے رہے۔ نواز شریف نے وظیفے نہیں لیے نواز شریف نے اے این پی کو مردان سے نکال کر قومی دھارے میں شامل کیا ۔ یہ نواز شریف کاوضو کر کے نام لیاکریں ۔آئین میں کس جگہ درج ہے کہ صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ ہے۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ ن اور اے این پی کے اراکین کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کی معطل ہو کر رہ گئی ۔ وفاقی وزیر میاں رضا ربانی نے ڈپٹی سپیکر سے درخواست کی کہ غیر پارلیمانی الفاظ حذف کر دئیے جائیں رضا ربانی نے کہاکہ جو شخصیت ایوان میں جواب نہیں دے سکتی اس پر تنقید نہ کی جائے ۔ ڈپٹی سپیکر نے دونوں اطراف کے غیر پارلیمانی الفاظ کو حذف کر دیا اور اراکین کے شور شرابے میں اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔
Posted by Editor in Pakistan News























