پنجابی فلموں کے ہیرو سلمان تاثیر پنجاب کی منتخب حکومت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہو کر میثاق جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں
ان کے صدارتی امیدوار پر ہم الزمات عائد نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کے بارے میں عالمی میڈیا میں تین ہزار سے زائد منفی سٹوریاں شائع ہو چکی ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کر تے ہوئے پنجاب کابینہ سے الگ ہو جائے پنجابی فلموں کے ہیرو سلمان تاثیر پنجاب کی منتخب حکومت کے خلاف سازشوں میں ملوث ہو کر میثاق جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کے صدارتی امیدوار پر ہم الزمات عائد نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کے بارے میں عالمی میڈیا میں تین ہزار سے زائد منفی سٹوریاں شائع ہو چکی ہیں ہفتہ کو پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت کی روشنی میں صدارتی مہم کو آگے بڑھائے گی ذاتیات نہیں بلکہ اصولوں پر سیاست کریں گے پیپلز پارٹی کی جانب سے جسٹس سعید الزمان صدیقی کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے جو جھوٹ پر مبنی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی صاف شفاف انتخابات کے حوالے سے جسٹس سعید الزمان صدیقی سے تقریبات کی صدارت کر اتی رہی ہے پی پی کے بیانات میں تضادہے ججز کی بحالی کے بارے میں معاہدوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا پی پی نے بحالی کو آئینی پیکج سے مشروط کیا اور موقف اختیار کیا کہ ججز آئینی ترمیم کے بغیر بحال نہیں ہو سکتے پی پی بتائے لاہور اور سندھ کے ججز کسی ترمیم سے بحال ہو رہے ہیں اب تو وزارت قانون کے ایک نوٹیفکیشن سے بحال ہو رہے ہیں مرضی سے ججز کوبحال کیا جا رہا ہے اور ان سے نیا حلف لیا جارہا ہے آئین کے مطابق نئے حلف کے تحت حلف سے سنیارٹی شروع ہوتی ہے پی پی نے نہ صرف معاہدوں سے انحراف کیا بلکہ پی سی او کی سپریم کورٹ کو بھی انہو ںنے تسلیم کیا ہمارا موقف ہے کہ حمید ڈوگر آئینی چیف جسٹس نہیں ہیں موجودہ عدلیہ بھی آئینی نہیں ہے جسٹس حمید ڈوگر کے فیصلے کے مطابق تو پی سی او کا حلف نہ اٹھانے والے ججز عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں ملک کو میثاق جمہوریت کی روشنی میں چلانا چاہتے ہیں جسٹس سعید الزمان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمران کی علامت ہیں ہم نے غیر متنازعہ صدارتی امیدوار دیا جو پورے ملک کے لئے محترم ہیں جب پرویز مشرف کے اقتدار سورج سوانیزے پر تھا جسٹس سعید الزمان صدیقی نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ مخالف صدارتی امیدوار کے بارے میں عالمی میڈیا میں 3 ہزار سے زائد منفی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں ہم نے تو الزامات نہیں لگائے ہم اسی اور نوے کی دہائی کی سیاست کو زندہ نہیں کر نا چاہتے مستقبل ہمارا ہے انہوں نے کہا کہ ہم کسی اکھاڑے کے لئے پہلوان نہیں پاکستان کے صدر محترم کا انتخاب کر رہے ہیں یہ عہدہ وفاق اور یگانگت کی علامت ہو تا ہے پرویز مشرف کی وجہ سے عہدہ متنازعہ ہو گیا تھا ہم اس عہدے کے وقار کو بحال کر نا چاہتے ہیں آصف علی زر داری کے صدر بننے سے یہ عہدہ سیاسی ہو جائے گا ملک میں سیاسی جماعت سے اگر کوئی صدر بنا ہے تو وہ اپنی جماعت سے مستعفی ہو ئے ہیں زر داری کے صدر بننے سے ایوان صدر ایک سیاسی جماعت کا مسکن بن جائے گا جس سے وفاق کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی سیاسی محاذ آرائی بڑھنے کا خدشہ ہے پی پی کے فیصلے نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا کر جمہوریت کو دباؤ میں لے آیا ہے حکمران اتحاد میں علیحدگی ہو نے پر پی پی کو سنجیدگی کا مظاہرہ کر نا چاہیے ہم نے مرکز میں اپوزیشن میں رہ کر مثبت کر دار کا فیصلہ کیا ہے پنجاب کابینہ کے حوالے سے پیپلز پارٹی اعلی ظرفی کا مظاہرہ کر تے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنا کر دار ادا کر ے سیاسی محاذ آرائی پیدا کر نے سے میثایق جمہوریت کی روح متاثر ہو گی اگر پنجاب حکومت کے خلاف سازشیں کی گئی ہیں جیسے کہ سلمان تاثیر جو گورنر کے بجائے پنجابی فلم کے ہیرو لگتے ہیں ۔ ایسا کہہ رہے ہیں تو پھرمحاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ نہ ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے کسی پس پردہ یا بالا دست قوت کو سیاست میں تسلیم نہیں کرتے ۔ دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے ذریعے اعادہ کیا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سجاد علی شاہ کے بارے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ کیاتھا کہ وہ چیف جسٹس کے حوالے سینارٹی پر پورا نہیں اترتے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بینہ سے پی پی سے علیحدگی کے حوالے سے تلخی نہیں چاہتے ۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہو گا کہ پی پی ہر صورت میں اقتدار میں رہنا چاہتی تھی پنجاب میں اقتدار اگر پی پی کی مجبوری ہے تو مسلم لیگ ن کو اس سے آگاہ کرے ق لیگ سے جماعتی سطح پر رابطہ نہیں کیا پرویز مشرف ان کے سرپرست تھے جو جا چکے ہیںانفردی سطح پر ق لیگ کے اکثریت اراکین کے ہمارے ساتھ رابطے ہیں اخلاقی طور پر پیپلز پارٹی کا فرض ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائے۔
Posted by Editor as Pakistan News at 12:20 AM JST























