معاہدہ پڑھنے کے باوجود مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی زرداری کا ساتھ دے رہے ہیں ، ان کا کردار بھی عوام کے سامنے آ گیا ہے ۔میاں نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے قومی ایجنڈے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کر دی
سلیمان تاثیر جیسے سازشی عناصر کسی کے لئے مخلص نہیں ہوتے پنجاب حکومت کے خلاف کوئی اقدام ہوا تو دفاع کریں گے
سعید الزماں باکردار آدمی ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ لیا اور ڈھائی سال سروس کی قربانی دی ان جیسا باکردار شخص ملنا مشکل ہے
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کا نجی ٹی وی کو انٹرویو
اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے قومی ایجنڈے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کر دی انہوں نے کہا کہ اے پی سی کی سفارشات کو آئین کا حصہ بھی بنایا جا سکتا ہے قر آن کو حاضررکھ کر معاہدہ کر نے کے لئے باوجود آصف زر داری نے اس کی پاسداری نہیں کی اس کے باجود مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا جس سے ان کا کر دار عوام کے سامنے آ گیا ہے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں میاں نواز شریف نے کہا کہ قرآن کی موجودگی میں کیا گیا معاہدہ میں نے مشرف کے استعفیٰ کے بعد ہی آصف زر داری کو یاد کرایا مگر آج تک انہوں نے اس پر عملدر آمد نہیں کیا نواز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات پردنیا ہمارا مذاق اڑا رہی ہے انہوں نے کہا کہ نیک نیتی اور خلوص دل کے ساتھ چاہتا ہوں کہ حکومت کامیاب ہو انہوں نے کہا کہ اللہ اور قر آن کہتا ہے کہ معاہدوں کی پاسداری کرو مگر آصف علی زر داری نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نئے حلف کے ساتھ ججوں کی بحالی ان کے ساتھ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ مفاد کی سیاست سے ملک کو بہت نقصان ہوا حالات کے جبر نے معاملات کو اس نہج پر پہنچایا نواز شریف نے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ جن مقاصد کے لیے معاہدے کئے وہ ادھورے رہ گئے عام معاہدوں میں ججز کی بحالی کی بات سر فہرست تھی۔ ہم جانتے تھے ملک سے مکار اور فریب کی سیاست ختم ہے جو ججز کی بحالی سے ہی ممکن تھی مجھے کبھی احساس ہوتا ہے کہ ہم استعمال ہو رہے ہیں انہوں نے کہاکہ میں ذاتی طور پر آصف زرداری کے خلاف نہیں ہوں انہوں نے معافی مانگی میں نے اس کا شکریہ ادا کیا ۔ اس لیے بھی ہم کسی قسم کی سازش نہیں کرنا چاہتے ہم جانتے ہیں کہ حکومت کامیاب ہو انہوں نے کہا کہ تین نومبر کے اقدام کے گناہ میں ہم شریک نہیں ہو سکتے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی میں نے کبھی بات نہیں کی انہوں نے کہاکہ سلیمان تاثیر جیسے سازشی عناصر کسی کے لئے مخلص نہیں ہوتے پنجاب حکومت کے خلاف کوئی اقدام ہوا تو دفاع کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد کے ساتھ چلنے کی پوری کوشش کی نواز شریف نے کہاکہ جو معاہدہ قرآن کو سامنے رکھ کر کیا گیا اس کی کاپی ابھی تک میرے پاس موجود ہے ہم نے آصف کو بار بار یاد کرایا مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ پہلے میرا خیال اور تھا اب معاہدہ پڑھنے کے بعد اور اس معاہدے کو اسفند یار ولی خان نے بھی دیکھا ۔میاں نواز شریف نے کہا کہ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن کو ہمارا ساتھ دیناچاہیے تھا مگر یہ معاہدہ پڑنے کے باوجود آصف علی زرداری کا ساتھ دے رہے ہیں اس سے ان کا کردار عوام کے سامنے آگیا ہے انہوں نے کہاکہ انسان کو اقتدار کے لئے نہیں اقوام کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے اور مسلم لیگ ن اس کی مثال ہے انہوں نے کہا کہ سیاست اصول کی ہونی چاہیے اقتدار کیلئے نہیں ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ میں افتخار چوہدری کو نہیں جانتا نہ کبھی ملا ہوں نہ کبھی ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ میں کسی شخص کیلئے نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کر رہا ہوں انہوں نے کہاکہ حکومت گرانے کی کوشش کی طرف سے بھی نہیں ہونی چاہیے ہم چاہتے ہیں کہ اب کوئی ماورائے آئین کام نہیں ہوناچاہیے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اب بھی ایک معاہدوں کی پاسداری ہوتی ہے تو اتحاد قائم رہ سکتا ہے مگر اب تو بات بہت آگے نکل چکی ہے اب تو نئے ججوں کو بحال بھی کیا جارہاہے پرویز مشرف کے بارے میں انہوں نے کہاکہ جو شخص آئین توڑے اسے سزا ملنی چاہیے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تمام پارٹیاں مل کر ایک ایجنڈا ترتیب دیں گی اس پر میں تیار ہوں اس کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اس میں ایجنڈا ترتیب دے کر اس پر عمل کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی آئین اور ادارے نہ توڑے اگر ایسا کرے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے اس طرح قوم کا اعتماد بڑھے گا انہوں نے کہاکہ سعید الزماں باکردار آدمی ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ لیا اور ڈھائی سال سروس کی قربانی دی ان جیسا باکردار شخص ملنا مشکل ہے انہوں نے کہاکہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہوئی تو ہم اپنا صدارتی امیدوار کھڑا نہ کرتے انہوں نے کہاکہ اگر سعید الزمان صدیقی صدر بنتے ہیں تو ہم اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ اور دیگر ترامیم ختم کریں گے اور 73ء کا آئین اصلی حالت میں بحال کریں گے انہوں نے کہاکہ مرکز میں ہمارے بغیر بہت بڑا خلاء ہے مگر ہم حکومت کو غیر مستحکم نہیں کریں گے جبکہ پنجاب حکومت میں اتنا خلاء نہیں ۔مسلم لیگ (ن )کے سربراہ میاںمحمد نواز شریف نے پیپلز پارٹی سے دوبارہ اتحاد کے لیے کم از کم ایجنڈا پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز لیگ کے صدارتی امید وار کی دستبرداری کے لیے صدارتی الیکشن کا عمل از سرنو شروع کرنے اور ججوں کی بحالی پر حکمران اتحاد کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ کوئی غیر آئینی کام اب نہیں ہوناچاہیے ۔ جمہوریت میں اب رخنہ نہیں پڑنا چاہیے اور جمہوری عمل کو غیر مستحکم نہیں کیا جانا چاہئے۔ اداروں کے تقدس کا احترام ہو اور یہ احترام تب ہی ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے تجویز دی کی جتنے بھی جج مقرر کئے جا رہے ہیں انہیں فارغ کر کے نئے سرے سے ان ججوں کو بحال کیا جائے جنہیں معزول کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا صدارتی امیدوار دستبردار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ معاہدے کے مطابق 17ویں ترمیم کو ابھی تک ختم نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر معاہدوں پر عمل درآمد ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم ایجنڈایہی ہے اب کوئی ماورائے آئین کام نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوریت میں رخنہ نہیں پڑنا چاہیے۔ جمہوری قوتوں کو غیر مستحکم نہ کیا جائے ۔ اداروں کے تقدس کا احترام کیا جائے اداروں کے تقدس کا احترام تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم عدلیہ کو بحال کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا طریقہ کار یہی ہے کہ جتنے ججز کو دوبارہ تعینات کیا جا رہا ہے انہیں قائم کر کے نئے سرے سے ان ججز کو بحال کیا جائے جن کو معزو ل کیا گیا ہے۔ اس بات پر اگر وہ آتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ صدارتی امیدوار کی دستبرداری کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سترھویں ترمیم ابھی تک آئین میں موجود ہے ۔ ججز کی بحالی کے معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اگر معاہدوں کی پاسداری ہوتی ہے ۔ صدارتی انتخاب کے شیڈول کا از سر نو اعلان ہوتا ہے اور آصف علی زرداری قوم کو ججز کی بحالی کی یقین دہانی کراتے ہیںمیرا خیال ہے ان سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ وہ آئیںٹی وی پر اور قوم کو یقین دہانی کرائیں۔
Posted by Editor in Pakistan News























