
Posted by Editor in Japan News
![]()
![]()
![]()
![]()
جزو
اشتہارات
Tokyo |
Islamabad |
رویز مشرف کا آٹھ سالہ دور پاکستان کے مفاد اور ترقی میں تھا۔ ہوسکتا ہے پرویز مشرف اچھے سساستدان اور اچھے سفارتکار نہ ہوں اسی لیے ہوسکتا ہے انکے کچھ فیصلے اچھے نہ ہوں۔ ججوں کی برطرفی کے انکا فیصلہ اچھا نہیں تھا۔ ایک فوجی کی حیثیت سے ان کی پالیسوں پر عملدرآمد میں غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن ان کے منصوبے خراب نہیں تھے۔
علی احسن نقوی، نیویارک
جو لوگ مشرف سے ڈیل کرکے، اپنے مقدمات معاف کرواکے ملک واپس آئے تھے، ایسے سیاستدان جو اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھتے وہ ملک سے مخلص کس طرح ہوسکتے ہیں؟ نواز شریف کو اخلاقیات اور زرداری کو معاشیات سیکھنی چاہیے۔مشرف کے استعفےسے یہ بات عیاں ہوگئی کہ ان لوگوں کو کس کی پشت پناہی حاصل تھی۔
محمد قریشی، نیویارک
ملک کے حالات نے خراب پلٹا بینظیر بھٹو کے قتل پر نہیں کھایا تھا بلکہ اب پرویز مشرف کے استعفی سے پاکستان کے حالات خراب رخ اختیار کریں گے- ان کا استعفی سب سے بڑا سانحہ ہے اب ان کی جگہ مقامی ٹھگ سیاستدان لیں گے۔ آصف زرداری جیسے ‘دس فیصد’ (’ٹین پرسینٹ’) والے۔اگر مشرف پر کوئی الزام ہے تو بیشک ان کا شفاف ٹرائل ہونا چاہیے۔
سید مصطفٰی عباس، طالبعلم
استعفٰی: پاکستانی نژاد امریکیوں کی رائے
مشرف نے جو ملک کو فائدہ پہنچایا تھا ان کے استعفے سے ملک کا نقصان ہوا ہے۔ مشرف پاکستان کے خیر خواہ اور محب وطن ہیں ان کے استعفے سے نہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بھی نقصان پہنچےگا۔ اگر انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے لیکن ان کا فیئر ٹرائل ہونا چاہیے۔
ارشاد سید
ایڈورٹائزر اور کنسلٹنٹ، نیویارک