لاہور ۔ صوبائی وزیر بلدیات سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیاں موجودہ بلدیاتی اداروں کے کام سے مطمئن نہیں اس لئے پرانے لوکل باڈی سسٹم 1979ء کو دوبارہ رائج کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ وہ آج پنجاب اسمبلی میں وقفہ سوالات کے د وران اراکین کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے ۔ اسمبلی کا اجلاس منگل کو ایک گھنٹہ 35 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ نے نقطہ اعتراض پر اراکین اسمبلی کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے استعفے پر بات کرنے سے روک کر ہاؤس کی کارروائی جاری رکھنے کی سفارش کی ۔ اجلاس میں رفعت سلطانہ کی تحریک استحقاق کو سپیکر نے استحقاق کمیٹی ( سپیشل کمیٹی ) کے سپرد کردیا ۔ سپیکر نے دیگر تحاریک استحقاق اور التوائے کار کو ضروری کارروائی کے بعد نمٹادیا تاہم میاں رفیق کی جانب سے پیش کی جانے والی کھاد کے متعلق تحریک التوائے کار پر اراکین کو تقاریر کرنے کی اجازت دے دی ۔ التوائے کار تحریک کو سمیٹتے ہوئے وزیر زراعت احمد علی اولکھ نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں یوریا کھاد کی کمی کا مسئلہ موجود ہے تاہم اس کا براہ راست تعلق وفاقی حکومت سے ہے پنجاب حکومت از خود کچھ نہیں کر سکتی ۔ پنجاب کیلئے 54 لاکھ ٹن کھاد کی ضرورت ہے جبکہ پیداوار صرف 48 لاکھ ہے ۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں پچپن فیصد کھاد زائد استعمال ہوئی ہے جبکہ چاول کی کاشت بھی تقریبا بیس فیصد زائد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کا عملہ مکمل طور پر فعال ہے ۔ محکمہ کے عملہ نے جعلی زرعی ادویات کے خلاف مہم کے دوران 283 ریڈ کر کے 95 افراد کو گرفتار کیا اور دو کروڑ 43 لاکھ 21 ہزار روپے مالیت کی جعلی کھاد اور زرعی ادویات پکڑی ہیں ۔ قبل ازیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ زراعت میں بہتری لانے کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی جائے ۔ انڈیا کا صوبہ پنجاب پورے ملک کیلئے اناج پیدا کرتا ہے جبکہ ہم آٹے کے بحران سے نہیں نکل پائے ۔ ملک کی مالیاتی پالیسیاں بھی کسانوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں ۔ ہمارے بینک انڈسٹری کو 3 فیصد شرح سود سے قرضے جبکہ کاشتکاروں کو 13 فیصد مارک پر قرضے دیئے ج اتے ہیں ۔ جس پر ایوان میں شیم شیم کے نعرے لگے ۔ اصغر علی منڈا نے کہا کہ ذخیرہ کی جانے والی کھاد کو پکڑ کر اسی علاقے کے غریب کاشتکاروں میں تقسیم کردیا جائے ۔ چوہدری ممتاز احمد ججہ نے کہا کہ کاد کا معاملہ بہت گھمبیر ہو گیا ہے ۔ کسانوں میں لائنوں میں کھڑے ہو کر بھی کھاد میسر نہیں ہے ۔ قوانین سخت کئے جائیں تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے ۔ اصغر علی منڈھا نے کہا کہ ہمارا ملک زرعی ملک ہے جن لوگوں کا خیال ہے کہ صنعتی دور ہے اس شعبہ پر توجہ دی جائے لیکن ہمیں اصل توجہ شعبہ زراعت پر دینی ہے کیونکہ ہمارے پاس نہ پانی ہے اور نہ کھاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ضلع شیخوپورہ سے ہے اور یہ ضلع چاول پیدا کرنے میں سب سے آگے ہے لیکن اس ضلع کے کسی بھی علاقے میں کھاد دستیاب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کو ذخیرہ کرنے والوں کو پکڑ کر سخت سزائیں دی جائیں اور ضبط شدہ کھاد کو کسانوں میں مفت تقسیم کیا جائے اور ایسے کاروبار میں ملوث ڈیلروں کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس بنائی جائے اور عوامی نمائندوںکو اختیارات دیئے جائیں اور ملک کو ریگستان بننے سے بچایا جا سکے ۔ فوزیہ بہرام نے کہا کہ کھاد پر قرضے دینے کے عمل کو آسان بنایا جائے اور کھاد اور بیج پر سود ختم کیا جائے ۔ میاں شفیع محمد نے کہا کہ ڈی سی اوز کو فیکٹری سے کھاد کی لسٹیں مہیا کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کھاد ڈیلروں کی بجائے بلاواسطہ کسانوں کو دی جائے ۔ انہوں نے اس امر پر توجہ بھی دلائی کہ ایران سے درآمد کی جانے والی کھا د میں فاسفورس کی مقدار کا تعین نہیں ہوتا اس لئے کھاد چائنہ سے درآمد کی جائے ۔
Posted by Editor in Pakistan News























