راولپنڈی ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر و قومی اسمبلی کے حلقہ 55راولپنڈی سے امیدوار سید ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ بحالی جمہوریت میں لیگی کارکنوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا تعلیمی قابلیت پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی حاصل کرناکارکنوں کا حق ہے تاہم ٹکٹ کا حتمی فیصلہ قیادت کرے گی ضلع کچہری راولپنڈی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن ہمارے دوست اور ساتھی ہونے کے حوالے سے ہمارے لئے قابل احترام ہیں اگر وہ پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو جائیں تو لیگی قیادت این اے 55سے ٹکٹ دینے کے معاملہ پر غور کر سکتی ہے پھر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا انہو ںنے کہاکہ ضمنی انتخابات میں شیر کا نشان حاصل کرنے کیلئے اعتزاز احسن کو مسلم لیگ کا بنیادی رکن بننا پڑے گا انہیں ایک تیر سے دو شکار نہیں کرنے دیں گے ورنہ کارکنوں کی حق تلفی ہو گی سید ظفرعلی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی مفاہمت کے تحت ضمنی انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور آصف علی زرداری این اے 55سے الیکشن لڑتے ہیں تو میاں نواز شریف کو سندھ کے حلقہ این اے 207ء لاڑکانہ سے الیکشن لڑایا جائے یہ قومی مفاہمت کی شاندار مثال ہو گی ہمارے کارکنوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا ججز کی بحالی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کو دوبئی بھیجا گیا اور اب نواز شریف بھی دوبئی میں ہیں لیگی قیادت چاہتی ہے کہ اعلان مری کے مطابق ججز بحال اور اتحاد کو قائم رکھا جائے میاں نواز شریف نے یکم مئی کو مسلم لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو باڈی کا بھی اجلاس طلب کر رکھا ہے اگر کسی خفیہ یا ظاہری ہاتھ کی وجہ سے ججز بحال نہ ہوئے اور تین نومبر والی پوزیشن بحال نہ ہوئی تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس ملک میں فوج کے نظام کو تسلسل حاصل ہے اور اس کیلئے جمہوری سیاسی جماعتوں کلو عوام ووکلاء کو ایک اور لمبی جمہوری جدوجہد یا جنگ لڑنی پڑے گی انہوں نے کہاکہ معزول چیف جسٹس سمیت عدلیہ کے دیگر معزول ججز عوام کی خواہشات اور ایک لاکھ وکلاء کی توقع کے مطابق بحال ہوئے تو سمجھیں گے کہ ملک میں جمہوری اور آئینی نظام کا آغاز ہو چکا ہے۔
Posted by Editor as Pakistan News at 11:31 PM JST























